Book Name:ALLAH Pak Ki Madad Kaese Milay
قَالَ اللہ تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی فِی الْقُرْآنِ الْکَرِیْم(اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے):
قَدْ كَانَ لَكُمْ اٰیَةٌ فِیْ فِئَتَیْنِ الْتَقَتَاؕ-فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ اُخْرٰى كَافِرَةٌ یَّرَوْنَهُمْ مِّثْلَیْهِمْ رَاْیَ الْعَیْنِؕ-وَ اللّٰهُ یُؤَیِّدُ بِنَصْرِهٖ مَنْ یَّشَآءُؕ-اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَعِبْرَةً لِّاُولِی الْاَبْصَارِ(۱۳) (پارہ:3، سورۂ آل عمران:13)
صَدَقَ اللہ الْعَظِیْم وَ صَدَقَ رَسُوْلُہُ النَّبِیُّ الْکَرِیْم صلّی اللہ ُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم
تَرجَمۂ کَنزالْعِرفَان:بیشک تمہارے لیے ان دو گروہوں میں بڑی نشانی ہے جنہوں نے آپس میں جنگ کی، (اُن میں ) ایک گروہ تو اللہ کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دوسرا گروہ کافِروں کا تھا جو کھلی آنکھوں سے مسلمانوں کو خود سے دُگنا دیکھ رہے تھے اور اللہ اپنی مدد کے ساتھ جس کو چاہتا ہے تائید فرماتا ہے، بیشک اس میں عقلمندوں کے لیے بڑی عبرت ہے۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! ہم ماہِ رمضان کے نِصْف تک پہنچ چکے ہیں، اَلحمدُ لِلّٰہ! عَشْرۂ مغفرت اپنی برکتیں لُٹا رہا ہے،رَبِّ کریم اِس عَشْرے کی بَرَکت سے ہم سب کو بخشش و مغفرت کا پروانہ نصیب فرمائے،
اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ۔
*17 رمضان کریم یومِ غزوۂ بدر بھی ہے([1]) اور یومِ سیدہ عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہ عنہا بھی ہے، یعنی اسی دِن غزوۂ بدر ہوا تھا اور اسی دِن حضرت عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللہ عنہا کا وِصَال بھی ہوا۔([2]) *19 رمضان کریم یومِ حضرت رُقیہ رَضِیَ اللہ عنہا ہے، آپ پیارے