Book Name:ALLAH Pak Ki Madad Kaese Milay
عزّت کرتے تھے، اُن سے دُعائیں کروایا کرتے تھے، اس گاؤں کے قریب سے ایک دریا گزرتا تھا، ایک مرتبہ یوں ہوا کہ دریا کا بَنْد ٹوٹ گیا، پانی نے گاؤں کا رُخ کیا، لوگ بہت پریشان ہوئے اور دوڑتے ہوئے نیک بزرگ کی خِدْمت میں پہنچے، دُعا کے لیے عرض کیا، نیک بزرگ نے فرمایا: جاؤ! سب لوگ پھاوڑے اور دیگر اوزار لے آؤ! سب لوگ جلدی سے پھاوڑے وغیرہ لے کر حاضِر ہو گئے، نیک بزرگ نے خود بھی ایک پھاوڑا اُٹھایا اور سب کو لے کر دریا کے قریب پہنچ گئے، لوگ سمجھ رہے تھے کہ دریا کا بند باندھنا ہے مگر نیک بزرگ نے اس کا اُلٹ کیا، دریا کا بند باندھنے کی بجائے، جو باقی بچا تھا، اسے بھی توڑنا شروع کر دیا، یہ دیکھ کر لوگ بہت خفا ہوئے اور واپس پلٹ گئے۔ اب لوگوں کے پاس کوئی راستہ نہیں تھا، سب خوف زدہ تھے، سیلاب سے بچنے کے لیے بال بچوں کو لے کر گھروں کی چھتوں پر چڑھ گئے ، کافی دیر گزرنے کے بعدانہوں نے دیکھا؛ دریا کا پانی جو گاؤں کی طرف بڑھ رہا تھا وہ رُک گیا ہے اور وہ نیک بزرگ کندھے پر پھاوڑا رکھے واپس تشریف لا رہے ہیں۔ سب بڑے حیران ہوئے کہ آخر ماجرا کیا ہے؟ چھتوں سے اُتر کر جلدی سے نیک بزرگ کی خِدْمت میں حاضِر ہوئے، پوچھا: عالی جاہ! ماجرا کیا ہے؟ سیلا ب کیسے رُک گیا؟ فرمایا: میں بچا کھچا بند توڑ رہا تھا، غیب سے آواز آئی: اے بندے! کیوں توڑتا ہے؟ میں نے عرض کیا: یقیناً یہ بند اللہ پاک کی مشیّت ہی سے ٹوٹا ہے، لہٰذا جب اللہ پاک کی مشیّت یہی ہے کہ دریا کا پانی گاؤں کی طرف چلا جائے تو میں اس پر راضِی ہوں اور پانی کا راستہ کھول رہا ہوں۔ آواز آئی: اے بندے! جب تُو ہماری مرضِی پر راضِی ہے تو جا! ہم تیری مرضِی کو پُورا کرتے ہیں۔ بس اسی سبب سے سیلاب رُک گیا۔
سُبْحٰنَ اللہ! مَعْلُوم ہوا؛ اگر ہم اللہ پاک کی رِضا میں راضِی ہو جائیں تو اِنْ شَآءَ اللہ