Book Name:Maula Ali رَضِیَ اللہُ عنہ Ke Jannati Baghaat
battle) ہے، یہ اِسلامی تاریخ کی پہلی لڑائی ہے جو حق اور باطِل کے درمیان ہوئی، اَلحمدُ لِلّٰہ! اِس لڑائی میں مسلمانوں کو عظیم تَرِین فتح اور غیر مسلموں کو عبرتناک شکست ہوئی۔وہ صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہم جو اِس غزوے میں شریک ہوئے، اُن میں مسلمانوں کے پہلے خلیفہ حضرت اَبُوبکر صِدّیق، دوسرے خلیفہ فاروقِ اَعظم، چوتھے خلیفہ حضرت علیُ المرتضیٰ رَضِیَ اللہ عنہم سمیت تقریباً 313 صحابۂ کرام شامِل ہیں، اللہ پاک نے ان صحابۂ کرام کو بہت فضیلتوں سے نوازا ہے۔ بخاری شریف میں روایت ہے: ایک مرتبہ حضرت جبریلِ امین علیہ السَّلام بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہوئے، عرض کیا: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ! آپ اَصْحابِ بدر کو کیسا سمجھتے ہیں؟ فرمایا: مِنْ اَفْضَلِ الْمُسْلِمِیْن یعنی غزوۂ بدر میں شریک ہونےوالے صحابہ سب مسلمانوں میں اَفْضَل ہیں۔ عرض کیا: یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ! وہ فرشتے جو غزوۂ بدر میں حاضِر ہوئےتھے، ہم فِرشتوں کے درمیان اُن کا بھی یہی مَقام ہے۔([1])
اَصْحابِ بدر کے ناموں کی برکات
عُلَمائے کرام نے لکھا ہے: اللہ پاک نے اَصْحابِ بدر کے ناموں میں بہت برکتیں رکھی ہیں *ان کے ناموں کے وسیلے سے دُعا کی جائے تو مُراد پُوری ہوتی ہے*ان ناموں کی برکت سے مریضوں کو شفا نصیب ہوتی ہے *چوروں لٹیروں سے حفاظت ملتی ہے *بےروزگاری ہو تو ان ناموں کی برکت سے روزگار نصیب ہو جاتا ہے *غرض؛ کیسی ہی مشکل ہو، پریشانی ہو، اَصْحابِ بدر کے ناموں کے وسیلے سے دُعا کیجیے! اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! مشکلات ٹَل جائیں گے، مُرادَیں پُوری ہو جائیں گی۔ ([2])