Book Name:Maula Ali رَضِیَ اللہُ عنہ Ke Jannati Baghaat
اے عاشقان ِ رسول! اچھّی اچھّی نیّتوں سے عمل کا ثواب بڑھ جاتا ہے۔ آئیے! بیان سننے سے پہلے کچھ اچھّی اچھّی نیّتیں کر لیتے ہیں، نیت کیجیے!*رضائے الٰہی کے لیے بیان سُنوں گا*بااَدَب بیٹھوں گا* خوب تَوَجُّہ سے بیان سُنوں گا*جو سُنوں گا، اُسے یاد رکھنے، خُود عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کروں گا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
ایک بہت خُوبصُورت واقعہ سنیے! بیان کیا جاتا ہے: کچھ لوگ سمندر میں بحری جہاز (Ship)کے ذریعے سَفَر کر رہے تھے۔ اچانک تیز ہوائیں چلنے لگیں، جہاز ہِچکولےلینے لگا، مُسَافِروں کے دِل پر خوف طاری ہو گیا، کلمہ درود اور دُعائیں وغیرہ ہونے لگیں، دِل تیزی سے دھڑک رہے تھے، سب کو یہی خوف تھا کہ آہ! ہم بیچ سمندر میں غَرْق ہو کر موت کے گھاٹ اُتَر جائیں گے۔ ایک طرف تو جہاز میں ایسا کُہرام مچا ہوا تھا، وہیں ایک مَجْذوب (یعنی عشقِ اِلٰہی میں ڈوبے ہوئے) بزرگ ہر چیز سے بےنیاز ہو کر جہاز کے ایک کونے میں آرام سے سَوئے ہوئے تھے۔ ایک مُسَافِر نے جب اُنہیں دیکھا تو قریب گیا، اُنہیں ہِلایا، اچانک سے آنکھ کھلی تو انہوں نے جلدی سے پڑھا:
بِسْمِ اللہ الَّذِیْ لَا یَضُرُّ مَعَ اسْمِہٖ شَیْءٌ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِیْ السَّمَاءِ وَہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ
ترجمہ: اللہ پاک کے نام سے، جس کے نام کی بَرَکت سے زمین و آسمان میں کوئی چیز نقصان نہیں پہنچاتی اور وہی سنتا، جانتاہے۔
مُسَافِر نے کہا: اے بندۂ خُدا...! کیا آپ دیکھ نہیں رہے کہ ہم کس مصیبت میں