Book Name:Maula Ali رَضِیَ اللہُ عنہ Ke Jannati Baghaat
ایک گڑھا ہے۔ سنو!یہ قبر ہرروز 3مرتبہ کلام کرتے ہوئے کہتی ہے: میں تاریکی کا گھر ہوں ، میں وحشت کا مکان ہوں اور میں کیڑے مکوڑوں کا گھر ہوں ۔ سنو!اس قبر کے بعد ایک ایسا دن ہے جس سے زیادہ شدید کوئی دن نہیں آیا۔اُس دن بچے بوڑھے ہوجائیں گے اور بڑے ہوش میں نہ ہوں گے۔ اللہ پاک فرماتا ہے:
تَذْهَلُ كُلُّ مُرْضِعَةٍ عَمَّاۤ اَرْضَعَتْ وَ تَضَعُ كُلُّ ذَاتِ حَمْلٍ حَمْلَهَا وَ تَرَى النَّاسَ سُكٰرٰى وَ مَا هُمْ بِسُكٰرٰى وَ لٰكِنَّ عَذَابَ اللّٰهِ شَدِیْدٌ(۲) (پارہ:17،سورۂ حج:2)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: ہر دودھ پلانے والی اپنے دودھ پیتے بچے کو بھول جائے گی اور ہر حمل والی اپنا حمل ڈال دے گی اور تو لوگوں کو دیکھے گا جیسے نشے میں ہیں حالانکہ وہ نشہ میں نہیں ہوں گے لیکن ہے یہ کہ اللہ کا عذاب بڑا شدید ہے۔
سنو!اس کے بعد ایسا دن (یعنی قیامت) ہے جس سے زیادہ شدید کوئی دن نہیں ۔اس دن جہنم بھڑک رہا ہوگا، اس کی گرمی شَدید ہوگی اور اس کی گہرائی بہت زیادہ ہے۔اس جہنم کا زیور لوہے کے گُرز اور اس کا پانی پیپ ہے، اس میں اللہ پاک کی رحمت کاکوئی حصہ نہیں۔ یہ سن کرلوگ بہت زیادہ روئےپھرآپ رَضِیَ اللہ عنہ نے فرمایا: اس کےبعدبھی ایک دن ہے۔(جس کے بارے میں اللہ پاک فرماتا ہے:)
وَ سَارِعُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُۙ-اُعِدَّتْ لِلْمُتَّقِیْنَۙ(۱۳۳)
(پارہ:4، سورۂ ال عمران:133)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: اور اپنے ربّ کی بخشش اور اس جنت کی طرف دوڑوجس کی وسعت آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔ وہ پرہیزگاروں کے لیے تیار کی گئی ہے۔
اللہ پاک ہمیں اور تمہیں جنت میں داخل کرے اور دردناک عذاب سے بچائے۔([1])