Book Name:Maula Ali رَضِیَ اللہُ عنہ Ke Jannati Baghaat
فَابْنِِ بِدَارِ الْبَقَاءِ بَيْتًا وَاهْدِم بِدَارِ الْفَنَاءِ بَيْتًا
ترجمہ: تم پہلے کچھ نہیں تھے، پِھر زندہ ہوئے، عنقریب دوبارہ موت کے گھاٹ اُتر جاؤ گے، پس باقی رہنے والے جہان (یعنی آخرت) میں اپنا گھر بناؤ! دارِ فنا (یعنی دُنیا) کا گھر گِرا ڈالو! ([1])
دل سے دنیا کی مَحبّت دور کرکے یاعلی! دیدو عشقِ مصطفےٰ مولیٰ علی مُشکل کُشا!([2])
پیارے اسلامی بھائیو! یہ ایک خوبصُورت نصیحت ہے، اس کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ ہم اپنا گھر گِرا کر سٹرک پر آجائیں، ہاں! یہ مطلب ضرور ہے کہ اس دُنیا کے گھر میں دِل نہ لگائیں بلکہ آخرت کی فِکْر کریں۔
آخِرت کی فکر کرنی ہے ضَرور زندَگی اِک دن گزرنی ہے ضَرور
قبر میں میِّت اُترنی ہے ضَرور جیسی کرنی ویسی بھرنی ہے ضَرور
ایک دن مرنا ہے آخِر موت ہے کر لے جو کرنا ہے آخر موت ہے
(3):مغفرت کی طرف دوڑ پڑو!
پیارے اسلامی بھائیو! حضرت علی المرتضٰی رَضِیَ اللہ عنہ کی تیسری نصیحت سنیے! آپ رَضِیَ اللہ عنہ نے ایک مرتبہ خطبہ دیتے ہوئے فرمایا: اے اللہ پاک کے بندو! موت!موت !جس سےبچنےوالاکوئی نہیں۔ اگرتم اس سے بھاگنے کی کوشش کرو گے تو یہ تمہیں بھاگنے نہیں دے گی اور تمہیں پکڑلے گی۔اس موت نے تمہیں پیشانی سے پکڑ رکھا ہے۔اب نجات صرف جلدی عمل کرنے میں ہے۔ تمہارے پیچھے ایک جلد باز طالب ہے اور وہ قبر ہے۔ سنو!قبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ یا جہنم کے گڑھوں میں سے