Maula Ali رَضِیَ اللہُ عنہ Ke Jannati Baghaat

Book Name:Maula Ali رَضِیَ اللہُ عنہ Ke Jannati Baghaat

ہے، ہم سب کو چاہیے کہ بندوں کے حُقُوق پُورے کیا کریں*والدین کے بھی حُقُوق ہیں *بہن بھائی کے بھی حقوق ہیں* اسلام نے پڑوسیوں کے بھی حقوق رکھے ہیں* دوست احباب کے بھی حقوق رکھے ہیں* اَہْلِ محلہ کے بھی حقوق ہیں* دُکاندار کے بھی حقوق ہیں* گاہَک کے بھی حقوق ہیں، ان سب کے حقوق پُورے کرنے ہیں۔ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ الْکَرِیْم!

بندوں کے حقوق کی اہمیت زیادہ ہے

پیارے اسلامی بھائیو!  یہ بات ہمیشہ یاد رکھیے کہ حُقُوقُ الْعِباد (یعنی بندوں کے حقوق) کا معاملہ بہت نازُک ہے بلکہ علمائے کرام فرماتے ہیں:  ایک لحاظ سے حُقُوقُ الْعِباد کا معاملہ زیادہ سخت ہے کیونکہ روزِ قیامت اللہ پاک اپنے حقوق تو چاہے گا تو معاف فرما دے گا مگر بندوں کے حقوق تب تک معاف نہ ہوں گے، جب تک کہ وہ بندہ خُود معاف نہ کر دے۔

اور آہ! آج دُنیا میں تو معاف تلافی کر کے، کچھ لے دے کر کسی کو راضی کیا بھی جا سکتا ہے، روزِ قیامت...!! آہ وہ سخت دِن، اس دِن نہ مال و دولت ہو گا، نہ محض ہاتھ جوڑنے سےکام بن پڑے گا، ہر ایک نیکیوں کے لیے ترس رہا ہو گا، خُود کو کسی طرح جہنّم سے بچانے اور جنّت میں پہنچ جانے کی فِکْر ہو گی، اس دِن بندوں سے اپنے حقوق معاف کروانا انتہائی دُشوار ہو جائے گا۔

نیکیاں دینی پڑ سکتی ہیں

حضرت ابو ہریرہ  رَضِیَ اللہ عنہ   سے روایت ہے،آخری نبی، مکی مدنی  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  فرمایا: جس نے کسی کی عزّت  یا کسی اور چیز پر زیادتی کی ہو تو اُسے چاہیے کہ اُس دن کے آنے سے پہلے آج ہی معافی حاصل کر لے جس دن درہم و دینار پاس نہ ہوں  گے۔اگر ا ُس کے پاس نیک اعمال ہوئے تو ظلم کے برابر ان میں  سے لے لیے جائیں  گے اور اگر نیکیاں  نہ