Book Name:Maula Ali رَضِیَ اللہُ عنہ Ke Jannati Baghaat
فرمایا: اگر میری رضا چاہتے ہو تو لوگوں کے حقوق پُورےپُورے ادا کیا کرو...!! ([1])
یاعلیَّ المرتضیٰ، مولیٰ علی مشکل کُشا آپ ہیں شیرِ خُدا مولیٰ علی مشکل کُشا
صاحِبِ لطف و عطا مولیٰ علی مشکل کُشا ہیں شہیدِ باوَفا مولیٰ علی مشکل کُشا([2])
اے عاشقانِ رسول! اس سبق آموز واقعے میں ہمارے لیے سیکھنے کے بہت سے مدنی پھول ہیں۔ سب سے پہلے تو یہ دیکھیے کہ حضرت علیُ المرتضیٰ رَضِیَ اللہ عنہ کیسی عاجزی والے تھے، آپ اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْن ہیں،مسلمانوں کے خلیفہ ہیں،اس کے باوجود عام لوگوں کی طرح بازار میں تشریف لے جاتے تھے، پھر اس بات پر بھی غور کیجیے کہ اس شخص نے لا علمی میں آپ رَضِیَ اللہ عنہ کو مَعَاذ اللہ! دَھکا دیا، یہ بے ادبی والا رویّہ تھا اس پر بھی آپ نے اس شخص کو کوئی سزا نہیں دی۔
سُبْحٰنَ اللہ!اللہ پاک ہمیں بھی تَواضُع و عاجزی کی دولت نصیب فرمائے۔
فخر و غُرور سے تُو مولیٰ مجھے بچانا یا رَبّ! مجھے بنا دے پیکر تُو عاجِزی کا([3])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْبِ! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! دوسرا مدنی پھول جو اس واقعے سے ہمیں سیکھنے کو ملا وہ یہ کہ حضرت مولا علی رَضِیَ اللہ عنہ نے کھجوریں بیچنے والے کو فرمایا: تم مجھے راضی کرنا چاہتے ہو تو لوگوں کے حقوق پورے کیا کرو۔
اِس سے مَعْلُوم ہوا کہ لوگوں کے حقوق پُورے کرنا بڑی فضیلت اور اہمیت والا کام