Maula Ali رَضِیَ اللہُ عنہ Ke Jannati Baghaat

Book Name:Maula Ali رَضِیَ اللہُ عنہ Ke Jannati Baghaat

زمانہ تھا، ایک روز آپ بازار تشریف  لے گئے، آپ نے دیکھا کہ ایک خاتون کھڑی رَو رہی ہے، مولائے کائنات، مولیٰ علی  رَضِیَ اللہ عنہ  نے اس سے رونے کا سبب پوچھا تو اس نے کہا:  میں لونڈی ہوں، میں نے فلاں دُکان والے سے چند درہم(Silver coins) کی کھجوریں خریدی تھیں مگر میرے مالِک کو وہ کھجوریں پسند نہیں آئیں اور اس نے واپَس لوٹا دیں، اب دُکان والا کھجوریں واپس نہیں لے رہا،اسی لیے میں پریشان ہوں۔حضرت علی المرتضی شیرِ خُدا  رَضِیَ اللہ عنہ   نے کھجوریں بیچنے والے سے اس خاتُون کی سِفارش کی اور فرمایا: کھجوریں واپس کر لو اور اس بیچاری کے دِرْہم لوٹا دو، یہ تو کنیز ہے، اپنی مرضی نہیں کر سکتی۔حضرت مولا علی  رَضِیَ اللہ عنہ  بڑے عاجزی والے تھے،  جیسے آج کل ہوتا ہے کہ بادشاہ کہیں جاتے ہیں تو پورے پروٹوکول کے ساتھ جاتے ہیں، سیکیورٹی گارڈز ساتھ ہوتے ہیں، حضرت مولیٰ علی  رَضِیَ اللہ عنہ  کے ساتھ ایسی سیکورٹی نہیں تھی، آپ عام لوگوں کی طرح ہی بازار میں تشریف لائے تھے،  چنانچہ کھجوریں بیچنے والے نے آپ کو پہچانا نہیں، حضرت علی  رَضِیَ اللہ عنہ  نے جب خاتُون کی سفارش کی تو دُکان والے نے مَعَاذ اللہ! حضرت علی المرتضی  رَضِیَ اللہ عنہ  کو دَھکا دے دیا۔ لوگوں نے جب یہ مَنْظَر  دیکھا تو دُکان والے سے کہا: کیا تم جانتے ہو جنہیں تم نے دَھکا دیا ہے، یہ کون ہیں؟ بولا: نہیں، میں نہیں جانتا۔ لوگوں نے بتایا: یہ اَمِیْرُ الْمُؤْمِنِیْن حضرت علی المرتضیٰ شیرِ خُدا  رَضِیَ اللہ عنہ  ہیں۔ اب تو وہ شخص گھبرا گیا اور اس نے جلدی جلدی اس خاتون سے کھجوریں واپس لیں، اس کے درہم اسے واپَس لوٹائے اور حضرت علی  رَضِیَ اللہ عنہ  کی خدمت میں حاضر ہو کر عاجزی سے عرض کیا: عالِی جاہ! میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھ سے راضی ہو جائیں۔ مولائے کائنات، حضرت مولا علی  رَضِیَ اللہ عنہ  نے