Book Name:Maula Ali رَضِیَ اللہُ عنہ Ke Jannati Baghaat
اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَالصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی خَاتَمِ النَّبِیّٖن
اَمَّا بَعْدُ! فَاَعُوْذُ بِاللہ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللہ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَارَسُوْلَ اللہ وَعَلٰی آلِکَ وَاَصْحٰبِکَ یَاحَبِیْبَ اللہ
اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلَیْکَ یَانَبِیَّ اللہ وَعَلٰی آلِکَ وَاَصْحٰبِکَ یَانُوْرَ اللہ
نَوَیْتُ سُنَّتَ الْاِعْتِکَاف (ترجمہ: میں نے سُنَّت اعتکاف کی نِیَّت کی)
ایک مرتبہ پیارے آقا ، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے حضرت جبرائیل عَلَیْہِ السَّلام سے پوچھا: اللہ پاک کے نزدیک کونسا عمل زیادہ پسندیدہ ہے؟ عرض کیا :اَلصَّلاةُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدٌ وَحُبُّ عَلِيِّ بْنِ اَبِيْ طَالِبٍ یعنی آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم پر درود پڑھنا اور حضرت علی المرتضیٰ رَضِیَ اللہ عنہ سے محبت کرنا(اللہ پاک کے نزدیک بہت پسندیدہ عمل ہیں)۔([1])
اے مَدینے کے تاجدار سلام اے غریبوں کے غمگُسار سلام
تیری اِک اِک اَدا پر اے پیارے سو درودَیں فِدا ہزار سلام
عرض کرتا ہے یہ حسنؔ تیرا تجھ پر اے خُلد کی بہار سلام([2])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
بیان سننے کی نیتیں
حدیثِ پاک میں ہے:اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّات اعمال کا دار و مدار نیّتوں پر ہے۔([3])