Book Name:ALLAH Pak Ke Khufiya Tadbeer
حضرت وَہْب بِنْ مُنَبِّہ رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں: بنی اسرائیل میں 70 زاہِد (یعنی دُنیا سے بےرغبتی رکھنے والے نیک لوگ) تھے، اس زمانے میں ان جیسا نیک اور کوئی نہیں تھا، اللہ پاک نے اس زمانے کے نبی عَلَیْہ ِالسَّلام کی طرف وحی فرمائی کہ یہ 70 زاہِد دُنیا سے غیر مسلم ہو کر نکلیں گے۔ اُن نبی عَلَیْہ ِالسَّلام نے حیرانی سےپوچھا: یا اللہ پاک! اس کی کیا وجہ ہے؟ (یہ تو بہت نیک لوگ ہیں، دُنیا سے بےرغبتی رکھتے ہیں، نیکیوں پر نیکیاں کرتے ہیں، پِھر ان کا انجام ایسا کیوں ہو گا؟) اللہ پاک نے فرمایا: اس لئے کہ یہ اپنے انجام سے بےفِکْر ہو گئے ہیں۔ ([1])
اللہ اکبر! اے عاشقانِ رسول! غور فرمائیے! نیک لوگ ہیں، دُنیا سے بےرغبتی رکھنے والے ہیں، ان کے زمانے میں ان کے جیسا عِبادت گزار اور کوئی نہیں تھا مگر افسوس! ان کا انجام بھیانک ہوا...!! کیوں؟ اس لئے کہ یہ بےفِکْر ہو گئے تھے، یہ اپنے اَنجام کے مُعاملے میں مطمئن ہو گئے تھے، ان کے دِلوں میں یہ احساس آ گیا تھا کہ ہم جس حالت پر ہیں،ہمیشہ اسی حالت پر رہیں گے، بس ان کا یہ اطمینان، ان کی یہ بےفِکْری، اللہ پاک کی خفیہ تدبیر سے بےخوفی تھی جس کے سبب یہ ہلاک ہو گئے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
خفیہ تدبیر سے بےخوفی کبیرہ گُنَاہ ہے
پیارے اسلامی بھائیو! یاد رکھئے! اللہ پاک کی خفیہ تدبیر سے بےخوفی (یعنی اپنی موجودہ حالت پر مطمئن ہو جانا) بہت نقصان دہ ہے۔ صحابئ رسول حضرت عمّار بن یاسِر رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: *اللہ پاک کی رحمت سےمایوس ہو جانا*اللہ پاک کی مدد سے نااُمِّید ہو جانا *اور اپنے آپ