Book Name:ALLAH Pak Ke Khufiya Tadbeer
ہمارا نگران، آفیسر ناراض ہو گا، ٹینشن ہوتی ہے کہ اب آفس دیر سے پہنچوں گا تو باس یا آفیسر کی ڈانٹ سننی پڑ سکتی ہے مگر صبح فجر کی نماز قضا ہو گئی ہے، اس کی وجہ سے جہنّم میں ڈالا جا سکتا ہے، اللہ پاک کا غضب مجھ پر برس سکتا ہے، آہ! نماز نہیں پڑھی، اللہ پاک کے حُضُور کیا مُنہ لے کر حاضِری دُوں گا، اس کی کوئی فِکْر نہیں ہوتی *جو کچھ ہم اس دُنیا میں کما سکے ہیں، اس کی حفاظت تو بڑے اہتمام کے ساتھ کرتے ہیں، تجوریاں بنوائی جاتی ہیں، بینک میں لاکر سسٹم بھی استعمال کیا جاتاہے، سیکورٹی گارڈ بھی رکھے جاتے ہیں مگر دِل میں ایمان کی دولت ہے، یہ لازوال دولت، یہ انمول دولت، یہ سب سے قیمتی دولت، اس کی حفاظت کی فِکْر کم ہی لوگوں کو ہوتی ہے۔ یقین مانیئے! آخرت کے مُعَاملے میں بےفِکْری کی یہ جو کیفیت ہے، یہ انتہائی نقصان دہ ہے۔ اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
اَفَاَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا بَیَاتًا وَّ هُمْ نَآىٕمُوْنَؕ(۹۷) اَوَ اَمِنَ اَهْلُ الْقُرٰۤى اَنْ یَّاْتِیَهُمْ بَاْسُنَا ضُحًى وَّ هُمْ یَلْعَبُوْنَ(۹۸) اَفَاَمِنُوْا مَكْرَ اللّٰهِۚ-فَلَا یَاْمَنُ مَكْرَ اللّٰهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْخٰسِرُوْنَ۠(۹۹) (پارہ:9، الاعراف:97تا99)
ترجمہ ٔکنزُالعِرفان: کیا بستیوں والے اس بات سے بے خوف ہوگئے کہ ان پر ہمارا عذاب رات کو آئے جب وہ سو رہے ہوں۔یا بستیوں والے اس بات سے بے خوف ہیں کہ ان پر ہمارا عذاب دن کے وقت آجائے جب وہ کھیل میں پڑے ہوئے ہوں۔کیا وہ اللہ کی خفیہ تدبیر سے بے خوف ہیں تو اللہ کی خفیہ تدبیر سے صرف تباہ ہونے والے لوگ ہی بے خوف ہوتے ہیں۔
اللہ! اللہ! معلوم ہوا؛ اللہ پاک کے عذاب سے، اس کی پکڑ سے، اس کی خفیہ تدبیر سے بےخوف ہو جانا نقصان اُٹھانے والوں، تباہ ہو جانے والوں کا طریقہ ہے۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد