Book Name:ALLAH Pak Ke Khufiya Tadbeer
آخرت کے معاملے میں بےفِکْری کا وبال
پیارے اسلامی بھائیو! اس آیتِ کریمہ میں ایک اہم بات جس کی طرف ہماری تَوَجُّہ دِلائی گئی، وہ یہ ہے کہ اس دُنیا کی زندگی پر راضِی ہو جانا، اپنی موجودہ حالت پر مطمئن ہو جانا، یہ گمان اپنے دِل میں بٹھا لینا کہ جیسا میں اب ہوں، ایسا ہی رہوں گا، یہ غیر مسلموں کا انداز ہے، ایک مسلمان کی یہ شان ہے کہ *اس کے دِل میں قیامت کا خوف ہوتا ہے*وہ جہنّم سے ڈرتا ہے*قبر میں*آخرت میں پکڑ ہو جانے سے خوف کھاتا ہے*وہ کبھی بھی اللہ پاک کی خفیہ تدبیر سے بےخوف نہیں ہوتا*اپنی موجودہ حالت پر مطمئن ہو کر وہ یہ گمان کر لے کہ میں جیسا ہوں، ایسا ہی رہوں گا، ایسا نہیں ہوتا بلکہ وہ ہر وقت ڈرتا رہتا ہے۔
لیکن افسوس!آج ہماراحال بےحال ہے، اللہ پاک کی خفیہ تدبیر کا خوف ہمارے دِلوں سے نکل چکا ہے، اس دُنیا کی زندگی پر قناعت ہمارے دِلوں میں بیٹھ چکی ہے، افسوس! ہمیں آخرت کی فِکْر نہیں ہوتی*مجھے دُنیا کا مال مِل جائے، اس کی کوشش تو دِن رات کی جاتی ہے مگر قیامت کے حساب میں کامیابی ملے گی یا نہیں مِلے گی، اس کی کچھ فِکْر نہیں ہے*چند سَو یا چند ہزار روپے کا نقصان ہو جائے تو گھنٹوں تک پریشانی رہتی ہے مگر گُنَاہ ہو جاتا ہے، وہ گُنَاہ ہمیں جہنّم کے عذاب میں گرفتار کر سکتا ہے، اس پر ذرّہ برابر پریشانی نہیں ہوتی*چند ہزار روپے کی کوئی چیز گم ہو جائے تو بڑی حسرت کے ساتھ، فِکْر مندی کے ساتھ اسے تلاش کرتے رہتے ہیں لیکن نیکی نہیں کر پائے، ثواب سے محروم رہ گئے، اس پر کوئی حسرت نہیں ہوتی *آفس جانے میں 10 منٹ لیٹ ہو جائیں، صبح آنکھ دیر سے کھلے تو فِکْر ہوتی ہے، پریشانی ہوتی ہے کہ 10 منٹ کے پیسے ماہانہ تنخواہ سے کٹ جائیں گے،