Book Name:ALLAH Pak Ke Khufiya Tadbeer
(2): ندامت(3): عزمِ ترک (یعنی اُس گناہ کو چھوڑنے کا پکا ارادہ) اگر گناہ قابلِ تلافی ہو تو اُس کی تلافی ( یعنی نقصان کا بدلہ) بھی لازِم ہے۔ مَثَلاً تارِک صلوٰۃ( یعنی بے نَمازی) کی توبہ کیلئے پچھلی نَمازوں کی قضا پڑھنا بھی ضروری ہے ۔([1])اور اگر حقوق العباد ضائع کئے ہیں تو توبہ کے ساتھ ساتھ اُن کی تلافی ضروری ہے ، مَثَلاً ماں باپ، بہن بھائی، بیوی یا دوست وغیرہ کی دل آزاری کی ہے تو اُس سے اِس طرح مُعافی مانگے کہ وہ مُعاف کر دے ۔ صرف مسکرا کر Sorry کہہ دینا ہر مُعاملے میں کافی نہیں ہوتا!
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
امیرِاہلسنت مولانا محمد الیاس عطارقادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے اپنے رسالے ”برے خاتمے کے اسباب“ میں ایمان برباد ہو جانے کے اور بھی اسباب لکھے ہیں، مثلاً*چغلی کرنا بُرے خاتمے کا سبب ہے*شراب پینا بُرے خاتمے کا سبب ہے*حسد کرنا (یعنی دوسروں کے پاس نعمت دیکھ کر جلنا اور ان سے نعمت چھن جانے کی تمنّا کرنا) بھی بُرے خاتمے کا سبب ہے *بدنگاہی بھی بُرے خاتمے کاسبب ہے*فرض ہونے کے باوُجود حج ادا نہ کرنا*اذان ہو رہی ہو تو باتوں میں مصروف رہنا*ناپ تول میں ڈنڈی مارنا بھی بُرے خاتمے کے اسباب میں سے ہیں۔ ([2])
پیارے اسلامی بھائیو! * آج توبہ کی رات ہے*اللہ پاک سے بخشش و مغفرت مانگنے