Book Name:ALLAH Pak Ke Khufiya Tadbeer
ہوتے ہوئے جھانکیں گے کہ شاید اس مصیبت سے رہائی ہو جائے ، پھر ان سب سے پوچھے گا کہ اسے پہچانتے ہو؟ سب کہیں گے : ہاں ! یہ موت ہے ، وہ ذبح کر دی جائے گی اور اعلان ہو گا: اے اہلِ جنت! ہمیشگی ہے ، اب مرنا نہیں اور اے اہلِ نار! ہمیشگی ہے ، اب موت نہیں، اس وقت جنتیوں کے لئے خوشی پر خوشی ہے اور جہنمیوں کے لئے غم بالائے غم ہو گا۔ نَسْألُ اللّٰہَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ فِی الدِّیْنِ وَالدُّنْیَا وَالاٰخِرَۃ ۔یعنی ہم اللہ پاک سے دین و دنیا کی بہتری کا سوال کرتے ہیں۔([1])
بُرے خاتِمے کے 4اسباب
بعض علَمائے کرام رَحمۃُ اللہ علیہم فرماتے ہیں : برے خاتمے کے 4 اسباب ہیں: (1):نماز میں سُستی (2):شراب نوشی (3):والِدین کی نافرمانی(4):مسلمانوں کو تکلیف دینا ۔([2])
توبہ کے 3 ارکان
جو اسلامی بھائی مَعَاذَ اللہ نماز نہیں پڑھتے یا قضا کرکے پڑھتے ہیں ، اپنی کوتاہی کے باعث نمازِ فجر کیلئے نہیں اٹھتے یابلاشرعی مجبوری کے مسجد میں باجماعت پڑھنے کے بجائے گھر ہی پرنماز پڑھ لیتے ہیں اُن کیلئے لمحۂ فکریہ ہے ! کہیں نَماز میں سُستی برے خاتمے کا سبب نہ بن جائے ۔ اِسی طرح شراب خور، ماں باپ کا نافرمان اور مسلمانوں کو اپنی زَبان یا ہاتھ وغیرہ سے تکلیف دینے والا سچّی توبہ کرلے ۔
حضرتِ علامہ سیِّد محمد نعیم الدین مراد آبادی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں : توبہ کی اصل رُجوع اِلَی اللّٰہ (یعنی اللہ پاک کی طرف رجوع کرنا) ہے اس کے 3رکن ہیں: (1): اعتراف ِ جرم