Book Name:ALLAH Pak Ke Khufiya Tadbeer
خاتمہ بُرا ہو جائے، یعنی مرتے وقت جس کا ایمان چھن جائے یا جو حالتِ کفر میں دُنیا سے جائے، جانتے ہیں اس کا حشر کیسا ہو گا...!! سنیئے! ایسے بدانجام کو قبر اِس زور سے دبائے گی کہ اِدھر کی پسلیاں اُدھر اور اُدھر کی اِدھر ہو جائیں گی۔غیر مسلم کیلئے اِسی طرح اوربھی درد ناک عذاب ہوں گے۔ قِیامت کا 50ہزار سالہ دن سخت ترین ہولناکیوں میں بسر ہوگا، پھر اسے اَوندھے مُنہ گھسیٹ کر جہنّم میں جھونک دیا جائے گا ۔ جوگناہ گار مسلمان داخِلِ جہنّم ہوئے ہوں گے جب ان کو نکال لیا جائے گا اوردوزخ میں صِرف وُہی لوگ رَہ جائیں گے جن کا کفر پر خاتِمہ ہوا تھا ۔بہارِ شریعت میں ہے : پھر آخر میں کفار کیلئے یہ ہوگا کہ اس کے قد برابر آگ کے صندوق میں اُسے بند کریں گے ، پھر اس میں آگ بھڑ کائیں گے اور آگ کا تالا لگایا جائے گا، پھر یہ صندوق آگ کے دوسرے صندوق میں رکھا جائے گا اور ان دونوں کے درمیان آگ جلائی جائے گی اور اس میں بھی آگ کا تالالگایا جائے گا، پھر اِسی طرح اُس کو ایک اور صندوق میں رکھ کر اور آگ کا تالا لگا کر آگ میں ڈال دیا جائے گا ۔ اب ہر کافر یہ سمجھے گا کہ اس کے سوا اب کوئی آگ میں نہ رہا، اور یہ عذاب بالائے عذاب ہے اور اب ہمیشہ اس کے لئے عذاب ہے ۔([1])
جب سب جنتی جنت میں داخل ہولیں گے اور جہنّم میں صرف وہی رہ جائیں گے جن کو ہمیشہ کے لئے اس میں رہنا ہے ، اس وقت جنت و دوزخ کے درمیان موت کو مینڈھے کی طرح لا کر کھڑا کریں گے ، پھر مُنادی(پکارنے والا) جنت والوں کو پکارے گا، وہ ڈرتے ہوئے جھانکیں گے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ یہاں سے نکلنے کا حکم ہو، پھر جہنمیوں کو پکارے گا، وہ خوش