Book Name:ALLAH Pak Ke Khufiya Tadbeer
ہی اس نے یہ کفر کیا، اسی وقت اسے موت آ گئی اور یہ بدبخت ایمان سے پِھر کر، مرتَد ہو کر دُنیا سے چلا گیا...!! ([1])
اے عاشقانِ رسول! ڈرنے کا مقام ہے، آہ! خوف کی بات ہے، جب 200 سال عبادت میں گزارنے، ایک بھی گُنَاہ نہ کرنے والے کا ایسا بھیانک انجام ہوا تو ہم جو گنہگار ہیں،ہم سے دِن رات نہ جانے کیسے کیسے گُنَاہ ہوتے ہیں، ہم اپنے انجام سے بےفِکْر کیسے رہ سکتے ہیں...!!
جس کو بربادیٔ ایمان کا خوف نہ ہو گا....!!
پیارے اسلامی بھائیو! کاش! ایمان کی سلامَتی کی پیاری سوچ نصیب ہوجائے، صد کروڑ کاش! ہر وَقت بُرے خاتِمے کے خوف سے دل گھبراتا رہے ، دن میں بار بار توبہ و استِغفار کا سلسلہ رہے۔اللہ پاک کے دربارِ کرم بار سے ایمان کی حفاظت کی بھیک مانگنے کی رَٹ جاری رہے۔تشویش اور سخت تشویش کی بات یہ ہے کہ جس طرح دُنیوی دولت کی حفاظت کے مُعامَلے میں غفلت اُس کے ضائع ہونے کاسبب بن سکتی ہے اِسی طرح بلکہ اِس سے بھی زیادہ سخت مُعامَلہ ایمان کا ہے۔ملفوظات اعلیٰ حضرت میں ہے : علمائے کرام فرماتے ہیں: جس کو سلبِ ایمان کا خوف نہ ہو نَزع کے وَقت اُس کا ایمان چھن جانے کا شدید خطرہ ہے۔([2])
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
پیارے اسلامی بھائیو! اپنے خاتمے کی فِکْر کرنا بہت ضروری ہے، آہ! جس بدبخت کا