Book Name:ALLAH Pak Ke Khufiya Tadbeer
نے کہا: بیٹا!یہ سب کچھ لوحِ محفوظ میں لکھا ہواہے اور اللہ پاک کی یہ شان ہے کہ
لَا یُسْــٴَـلُ عَمَّا یَفْعَلُ (پارہ:17، الانبیا:23)
ترجمہ ٔکنزُالعِرفان: اللہ سے اس کام کے متعلق سوال نہیں کیا جاتا جو وہ کرتا ہے
کہتے ہیں: میں نے استاد کی یہ باتیں تَوَجُّہ سے سُنیں، پِھر جب 3دن گزرے تو استاد کے کہنے کے مطابق ہی ہوا، اچانک اس پر بےچینی طاری ہوئی، رنگ بدل گیا اور چہرہ سیاہ ہو کر مشرق کی طرف گھوم گیا اور وہ مُنہ کے بَل گِرا اور موت کے گھاٹ اُتر گیا۔ اپنے استاد کا ایسا انجام دیکھ کر میں بہت رویا، پھر مجھے وصیت یا دآئی تو میں نے اس کو ایک تابوت میں رکھا اور اسی جگہ لے گیا، جس کااستاد نے ذِکْر کیا تھا، اس کے بعد سب کچھ ویسا ہی ہوا، جیسا استاد نے بتایا تھا، صبح کووہاں کچھ لوگ آئے، ان کے پاس بھی ایک تابُوت تھا، انہوں نے وہ تابُوت استاد کے تابُوت کے ساتھ رکھ دیا، اُن میں سے ایک شخص آگے بڑھا اور میرے استاد کے تابُوت کو اُٹھا کر جانے لگا تو میں نے اسے پکڑ کر پوچھا: تم کون ہو؟ اور یہ معاملہ کیا ہے؟ وہ بولا: میں ایک غیر مسلم ہوں، یہ جو تابُوت ہے، اس میں ہمارا ایک مذہبی رہنما ہے، میں نے 40 سال اس کی خِدْمت کی، اس نے اپنی موت سے 3 دِن پہلے مجھے بُلا کر اس بات کی وصیت کی تھی اور کہا تھا کہ میں اس کا تابُوت اس جگہ لاؤں اور دوسرا تابُوت لے جا کر اپنی مذہبی رسومات کے مطابق اسے دفن کر دُوں۔ چنانچہ جب 3 دِن گزر گئے تو میرے استاد کا چہرہ خوشی سے کھل اُٹھا، انہوں نے کلمۂ شہادت پڑھا اور مسلمان ہو کر انتقال کر گئے۔
اس کے بعد قَضِیْبُ البَان (یعنی اس واقعہ کو بیان کرنے والے نیک بزرگ ) فرماتے ہیں: اب میں نے اس تابُوت کو اُٹھایا، اسے کھولا تو اس میں ایک بزرگ کی میّت تھی، ان کے چہرے پر