ALLAH Pak Ke Khufiya Tadbeer

Book Name:ALLAH Pak Ke Khufiya Tadbeer

تھا، جس کو قَضِیْبُ البَان (یعنی بان نامی درخت کی شاخ) کے نام سے پکارا جاتا تھا۔ ان  کے اِحترام اور رعب ودَبدبے  کی وجہ سے کوئی ان سے بات کرنے کی جرأت نہیں کرتا تھا۔ وہ بہت زیادہ رویا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ میں اُن نیک شخص کی خدمت میں حاضِر ہوا اور عرض کیا: اے میرے محترم! اس ذات کی قسم جس نے آپ کو اپنی ذات کے سوا ہر چیز سے بے نیاز کر دیا ہے! آپ کے غم اور لوگوں سے جدا رہنے کا سبب کیاہے؟انہوں نے مجھے دیکھا اور بہت زیادہ روئےپھر ان  کارنگ بدل گیااور بےہوش ہو گئے۔ جب انہیں ہوش آیا تو انہوں نے روتے ہوئے اپنا واقعہ بیان کیا، فرمانے لگے: میں اپنے استاد کی خدمت کیا کرتا تھا، میرا استاد اَبدال میں سے تھا، میں نے 40سا ل اس کی خدمت کی، وہ بہت عبادت گزار تھا۔ اُس نے اپنی وفات سے 3دن پہلے مجھے بلاکر کہا: اے میرے بیٹے ! اے اللہ پاک کے بندے! میرا تجھ پر اور تیرا مجھ پر حق ہے۔ اور تجھ پر میرے حقوق میں سے ایک یہ ہے کہ تومیری باتیں غور سے سنے اور میری وصیت کو پورا کرے۔ میں نے عرض کی:  محبت اور عزت سے آپ کی وصیت پوری کروں گا۔ اس نے کہا: میری عمر کے 3دن باقی ہیں اورمیں کفر پر مروں گا۔ جب میں مر جاؤں تو مجھے میرے کپڑوں سمیت رات کی تاریکی میں ایک تابوت میں رکھ کر شہر سے باہر فلاں جگہ لے جا نا اور سورج نکلنے تک وہیں ٹھہرے رہنا،  وہاں کچھ لوگ آئیں گے، ان کے پاس ایک تابُوت ہو گا، وہ اس تابُوت کو میرے پہلو میں رکھ دیں گے اور میرا تابُوت لے جائیں گے، تم وہ دوسرا تابُوت لے کر واپس آجانا، پِھر اس تابُوت کو کھولنا، اس میں جو میّت ہو گی، اس کی تجہیز و تکفین کے معاملات پُورے کر کے اسلامی طریقے سے دفن کر دینا۔ وہ نیک شخص فرماتے ہیں: اپنے استاد کی یہ بات سُن کر مجھ پر رِقّت طاری ہو گئی اور میں نے روتے ہوئے پوچھا: ایسا معاملہ ہونے کی وجہ کیا ہے؟ استاد