ALLAH Pak Ke Khufiya Tadbeer

Book Name:ALLAH Pak Ke Khufiya Tadbeer

ایک مرتبہ ایک حدیث شریف بیان کی، جس میں سب سے آخری جنّتی کا ذِکْر تھا، مضمون کچھ اس طرح تھا کہ جب سب جنّتی جنّت میں اور سب جہنمی جہنم میں پہنچ جائیں گے تو سب سے آخر میں ایک شخص کو جہنّم سے نکال کر جنّت میں داخِل کر دیا جائے گا۔

امام حسن بصری  رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ  نے جب یہ روایت بیان کی تو تڑپ کر فرمایا: کاش! وہ آخری جنّتی میں ہی ہو جاؤں...!! لوگوں نے پوچھا: عالیجاہ! آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں؟ فرمایا: کیونکہ اس جہنمی کا جہنّم سے آزاد ہونا اور جنّت میں پہنچنا یقینی ہے۔ ([1])

پیارے اسلامی بھائیو!  یہ اللہ پاک کے نیک بندے ہیں، ذرا اندازہ لگائیے کہ یہ کس طرح اللہ پاک کی خفیہ تدبیر سے ڈرتے تھے، کاش! ہمیں بھی خفیہ تدبیر کا خوف نصیب  ہو جائے، کاش! اپنے انجام کی فِکْر ہمیں میسر آجائے۔

ایمان پر موت کی کسی کے پاس ضَمانت نہیں

اللہ پاک کا کروڑہا کروڑ اِحسان کہ اُس نے ہمیں انسان بنایا، مسلمان کیا اور اپنے حبیب ِ مکرَّم صَلَّی اللہ  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا دامنِ کرم ہمارے ہاتھوں میں دیا۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ ہم مسلمان ہیں مگر ہم میں سے کسی کے پاس اِس بات کی کوئی ضَمانت نہیں کہ وہ مرتے دم تک مسلمان ہی رہے گا۔ جس طرح بے شُمار غیر مسلم خوش قسمتی سے مسلمان ہو جاتے ہیں اُسی طرح کئی ایک بدنصیب مسلمانوں کا مَعاذَاللہ غیر مسلم ہو کر مرنا بھی ثابِت ہے۔ اور جو ایمان سے پِھر کر یعنی مُرتَد ہو کر مریگا وہ ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دوزخ میں رہے گا۔اللہ پاک پارہ 2سورۂ بقرہ آیت نمبر 217میں ارشاد فرماتا ہے:


 

 



[1]...تنبیہ الغافلین، باب المواعظ، صفحہ:353۔