Book Name:ALLAH Pak Ke Khufiya Tadbeer
*جہنّم کے عذابات کا سُن کر*قبر و آخرت کی ہولناکیوں کا بیان سُن کر*اللہ پاک کی خفیہ تدبیر کے بارے میں روایات سُن کر اپنے آپ کے بارے میں غور کرتے ہیں، عام طور پر لوگ یہی سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ *مجھے کچھ نہیں ہونے والا*مجھے تو اللہ پاک بخش ہی دے گا*یہ روایات*یہ عذابات*یہ ہولناکیاں میرے لئے نہیں بلکہ دوسروں کیلئے ہیں۔
اے عاشقانِ رسول! ایسا مت سوچئے! اللہ پاک بےنیاز ہے، وہ کسی کا محتاج نہیں ہے، میرے بارے میں اللہ پاک کی خفیہ تدبیر کیا ہے،مجھے اس بارے میں سوچنا ہے، اس کی فِکْر کرنی ہے*میں آج نمازی ہوں، آہ! کل نمازی نہ رہ سکا تو کیا بنے گا؟ *میں آج نیک ہوں، کل مجھ سے نیکی کی توفیق چھین لی گئی تو میرا کیا بنے گا؟ *ہائے! ہائے! مجھے توبہ کی توفیق نہیں مِل پا رہی* آہ! میں گُنَاہ نہیں چھوڑ پا رہا...! افسوس! اگر اس میں اللہ پاک کی خفیہ تدبیر ہوئی، *آہ! اگر میں اپنا ایمان سلامت لے کر دُنیا سے نہ جا سکا تو میرا کیا بنے گا...!! میں کہاں جاؤں گا؟ کس کے در پر سہارا لوں گا...؟
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
کاش! وہ خوش نصیب میں ہی ہوتا...!!
پیارے اسلامی بھائیو! دوسروں کا انجام کیا ہو گا؟ میرے ساتھ بیٹھے شخص کے بارے میں اللہ پاک کی خفیہ تدبیر کیا ہے؟ اس بارے میں فِکْر کرنے کی مجھے ضرورت نہیں ہے، مجھے تو یہ سوچنا ہے کہ میرا انجام کیا ہو گا؟ میرے بارے میں اللہ پاک کی خفیہ تدبیر کیا ہے؟ ہمارے بزرگانِ دِین ایسے ہی تھے، وہ اپنے انجام کے بارے میں فِکْر مند رہا کرتے تھے۔ مشہور ولیُّ اللہ حضرت امام حسن بصری رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ کے بارے میں آتا ہے، آپ نے