Quran Pak Ki Ahmiyat

Book Name:Quran Pak Ki Ahmiyat

پرواز کر  گئى۔(صفة الصفوة،3/100، بتغیر)

صَلُّو ْا عَلَی الْحَبِیْب!                     صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد

بلا شبہ وہ خوش نصیب گھرانہ تھاکہ تلاوتِ قرآن جیسی عظیم نیکی و عبادت میں ہرایک دُوسرے کا مددگاربھی تھا،گویا اِن میں کوئی بھی نیکیوں میں پیچھے نہیں رہنا چاہتا تھا، مگر آج ایسابہت کم دِکھائی دیتا ہے،اب توبدقِسمتی سے نیکی کے کاموں کی طرف قدم بڑھانے والے کی حوصلہ اَفزائی کے بجائے دِل دُکھایا جاتا ہے،اے کاش!ہم بھی نیکی کی کاموں میں ایک دُوسرے کے مددگار بنیں۔

اے عاشقانِ اولیا!اس حکایت سے معلوم ہوا!بزرگانِ دِین رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ  عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن قرآنِ کریم کی اَہَمِّیَّت کو اچھی طرح جانتے تھے،اسی لئے ہمیشہ اس سے تعلق بنائے رکھتے،اس کی تلاوت کرتےرہتے اور زیادہ سے زیادہ ختمِ قرآن کی کوششوں میں لگے رہتے تھے۔ اپنے گھروں کو تلاوتِ قرآن سے آراستہ رکھتے تھے۔

اے کاش! ہم بھی اپنے گھروں کو تلاوتِ قرآن سےروشن کریں،ہمارے پیارے آقا صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے گھروں کو تلاوتِ قرآن کرکے اور نمازیں پڑھ کر آباد کرنے کا حکم دیا ہے،چنانچہ

 نبیِّ کریم صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا:اپنے گھروں کو قبرستان نہ بناؤ(یعنی اپنے گھروں میں عبادت کیا کرو)۔شیطان اس گھر سے بھاگتا ہے جس میں’’سورۂ بقرہ‘‘کی تلاوت کی جاتی ہے۔

(مسلم، کتاب صلاۃ المسافرین وقصرہا، باب استحباب صلاۃ النافلۃ۔۔۔ الخ، ص۳۰۶،حدیث:۱۸۲۴)

مگر افسوس!آج مسلمانوں کے گھروں میں تلاوت ِقرآن نہیں ہوتی بلکہ گانوں کی