Book Name:Kamil Momin ki 2 Nishaniyan
حالات ایسے ہیں کہ لوگ جلدی جلدی مسجد میں آتے ہیں، جیسی تیسی ہو سکے نماز پڑھتے ہیں اور گھر کو روانہ ہو جاتے ہیں، جتنی جلدی نماز کے وقت مچائی جاتی ہے، شاید ہی کسی اور کام کے لیے مچائی جاتی ہو گی...!! * جُونہی نماز شروع کی، کبھی کوئی کام یاد آتا ہے، کبھی کوئی یاد آتا ہے، بس پِھر جلدی مچ جاتی ہے کہ جلدی جلدی نماز پڑھو! پِھر ابھی فُلاں فُلاں کام بھی کرنا ہے۔
یُوں لوگ دُنیوی کاموں کے لیے نماز میں جلدی مچاتے اور آدابِ نماز کا لحاظ رکھے بغیر ہی جیسی تیسی پڑھ لیتے ہیں۔ اللہ پاک ہمارے حال پر رحم فرمائے، نماز میں جلدی مچانا بہت نقصان دِہ ہے۔
اللہ پاک کے آخری نبی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: لوگوں میں سب سے بَدتَر چور وہ ہے، جو اپنی نماز میں چوری کرتا ہے۔ صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان نے عرض کی : یا رسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! کوئی شخص اپنی نماز میں کس طرح چوری کرسکتا ہے؟ تو آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے اِرْشاد فرمایا : جو اس کے رُکوع و سجود پورے نہیں کرتا۔([1])
نماز میں جلدی مچانے کے نقصانات
خادمِ نبی، حضرتِ اَنس بن مالِک رَضِیَ اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ پاک کے پیارے نبی، مکی مَدَنی صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کا فرمانِ عالی شان ہے: جو نمازیں اپنے وقت میں ادا کرے اور نمازکے لیے اچھی طرح وُضو کرے اور اس کے قیام، خشوع، رُکوع وسجود(یعنی سجدے)