Book Name:Kamil Momin ki 2 Nishaniyan
یہ کامِل اِیْمان والوں کی پہلی نشانی ہے کہ وہ نماز بھاگتے دوڑتے، جلد بازی میں نہیں پڑھتے بلکہ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو ان کے دِل خوفِ خُدا سے لرز رہے ہوتے ہیں، ان کی تَوَجُّہ دُنیا سے ہٹی ہوتی ہے اور یہ دُنیا وَ مَافِیْہَا سے بےنیاز ہو کر اللہ پاک کی محبّت میں گم ہو کر پُوری تَوَجُّہ کے ساتھ نماز پڑھتے ہیں۔
(1): مسلمانوں کی پیاری اَمِّی جان حضرتِ بی بی عائشہ صِدِّیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ہم سے اور ہم آپ سے گفتگو کررہے ہوتے لیکن جب نماز کا وقت ہوتا تو(ہم ایسے ہو جاتے) گویا آپ ہمیں نہیں پہچانتے اور ہم آپ کو نہیں پہچانتے۔([1]) (2): مسلمانوں کے پہلے خلیفہ حضرت صِدِّیقِ اکبر رَضِیَ اللہ عنہ نماز میں ایسے ہوتے گویا (گڑی ہوئی) میخ(کُھونٹی) ہیں۔ (3):بعض صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہ م رُکوع میں اتنے پُرسکون ہوتے کہ ان پر چڑیاں بیٹھ جاتیں گویا وہ بے جان چیزوں میں سے ہیں۔([2])
اللہ پاک ہمیں بھی ایسے خشوع و خضوع اور اطمینان کے ساتھ نماز پڑھنے کی توفیق نصیب فرمائے۔
اٰمِیْن بِجَاہِ خَاتَمِ النَّبِیّٖن صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ۔
آج کل مَاشَآءَ اللہ! ماہِ رمضان کی برکتیں ہیں، مسجدوں میں بھی نمازیوں کی بہار نظر آتی ہے، یہ تو بہت اچھی بات ہے، البتہ! ہمیں نماز کو وقت دینا چاہیے *ہمارے ہاں