Book Name:Kamil Momin ki 2 Nishaniyan
سُبْحٰنَ اللہ! ایک پوشیدہ بات پر اس قدر پختہ ایمان کہ دیکھنے وسننے کی حاجت ہی نہ سمجھی اور بِن دیکھے و سنے ہی آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی تصدیق کر دی۔یہ اس دور کی بات ہے جب سیِّدِ عالَم، نُورِ مُجَسَّم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی تصدیق کرنے والے بہت تھوڑے تھے لیکن قربان جائیے مسلمانوں کی پیاری اَمی جان حضرت خدیجۃُ الکبریٰ رضی اللہ عنہا پر کہ ان دِنوں میں بھی ایسی کامِل تصدیق کی اور ایسا کامِل ایمان پایا، یقیناً آپ رضی اللہ عنہا مسلمانوں کی باعِثِ فخر امّی جان ہیں۔
پیارے اسلامی بھائیو! اَلحمدُ لِلّٰہ! اللہ پاک نے ہمیں اِیْمان کی دولت بھی عطا فرمائی ہے اور اس کے ساتھ یہ بھی سہولت ہمارے لیے ہے کہ اب وہ مشکلات نہیں ہیں، جو صحابۂ کرام علیہمُ الرّضوان کے سامنے تھیں، ہم کلمہ پڑھیں تو ہمیں ڈانٹا نہیں جاتا، تعریف کی جاتی ہے، ہم نمازیں پڑھیں تو ہم پر پتھر نہیں برسائے جاتے، لوگ نیک نمازی سمجھ کر عزّت دیتے ہیں۔ مگر افسوس! اب ہمارے اِیْمان کمزور ہو گئے ہیں۔ اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اٰمِنُوْا (پارہ:5،سورۂ نساء:136)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: اے ایمان والو! ایمان رکھو!
عُلَمائے تفسیر اس آیت کی وضاحت میں فرماتے ہیں: اِزْدَادُوْا فِی الْاِیْمَانِ یعنی معنیٰ یہ ہے کہ اے ایمان والو! اپنے ایمان کو مزید مضبوط کرو! ([1])