Kamil Momin ki 2 Nishaniyan

Book Name:Kamil Momin ki 2 Nishaniyan

آپ اُس خاتُون کے اِیْمان کی پختگی کا اندازہ لگا سکتے ہیں کہ جب مکہ کی سرزمین اِسْلام کے لیے تنگ پڑ رہی تھی، ہر طرف سے کفّار اور غیر مسلم اِسْلام کو مٹانے پر تُلے ہوئے تھے، جب اِسْلام کا نام تک لینا ناقابِلِ مُعَافِی جُرْم سمجھا جا رہا تھا، ایسے نازُک حالات میں خواتین کی فہرست میں ایک سیدہ خدیجۃ الکبریٰ  رضی اللہ عنہا  تھیں جو سرکارِ عالی وقار، مکی مَدَنی تاجدار  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم  کی دِل جُوئی اور خِدْمت گزاری کا شرف حاصِل کر رہی تھیں۔ اسلام کے اُن ابتدائی اور بہت ہی مشکل دِنوں میں سیدہ خدیجہ  رضی اللہ عنہا  نے مالی قربانیاں بھی پیش کیں، اپنا سارا مال راہِ دِین میں لُٹا دیا اور ہر ہر لمحے پیارے آقا  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم  کا ساتھ دینے کی سعادت بھی حاصِل کی۔

بِن دیکھے ہی مان لیا

روایت ہے: جب پیارے آقا  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  کے شہزادےحضرت قاسِم  رَضِیَ اللہ عنہ  کا انتقال ہوا، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا  نے عَرْض کی:یا رَسُولَ اللہ  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  ! کاش!اللہ پاک قاسِم کو مدّتِ رضاعت (یعنی دُودھ پینے کی عمر) پوری ہونے تک زندہ رکھتا۔رسولُ اللہ  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  نے فرمایا: اس کی رِضاعت جنّت میں پوری ہو گی۔ آپ  رضی اللہ عنہا  نے عَرْض کیا:یا رَسُولَ اللہ  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  ! اگر میں اس بات کو جانتی تو مجھ پر یہ کام آسان ہو جاتا۔ سرکارِ مدینہ، راحتِ قلب وسینہ  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  نے فرمایا: اگر تم چاہو تو میں اللہ پاک سے دُعا کر دوں اور تم اِس کی آواز سن لو؟ اس پر آپ  رضی اللہ عنہا  نے عَرْض کیا:نہیں،بلکہ میں اللہ پاک اور اُس کے رسول  صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم  کی تصدیق کرتی ہوں۔([1])


 

 



[1]... ابن ماجہ، كتاب الجنائز، باب ماجاء فى الصلاة...الخ، صفحہ:243، حديث:1512۔