Book Name:Kamil Momin ki 2 Nishaniyan
اللہ ُاکبر! پیارے اسلامی بھائیو! دیکھیے! یہ اَہْلِ ایمان تھے...!! یہ کامِل ایمان والے تھے، انہیں سونے کا وقت نہیں ملتا تھا، اور ہم...!! ہماری حالت یہ ہے کہ
دِن لَہْو میں کھونا تجھے، شب صبح تک سونا تجھے شرمِ نبی، خوفِ خُدا، یہ بھی نہیں، وہ بھی نہیں ([1])
وضاحت:یعنی دِن فضولیات میں گزر جاتا ہے، رات کو غفلت کی نیند سو جاتے ہیں، نہ شرمِ نبی، نہ خوفِ خُدا، کچھ بھی نہیں ہے۔
لگا تکیہ گُنَاہوں کا پڑا دِن رات سوتا ہوں مجھے اب خوابِ غفلت سے، جگا دو یارسولَ اللہ!
اللہ پاک ہمارے حَال پر رَحم فرمائے۔ اپنے وقت کی قدر کرنا سیکھ لیں*اپنا جدول بنائیں*ایک ایک منٹ کا حساب رکھیں*کچھ وقت حلال کمانے کھانے کا ہو*کچھ اَہْلِ خانہ کے لیے ہو*کچھ وقت عِبَادات کے لیے ہو، یُوں تقسیم کاری کر کے اپنا جدول بنائیں، پِھر اِستقامت کے ساتھ اُس پر عَمَل بھی کرتے رہیں۔ اللہ پاک ہمیں عَمَل کی توفیق نصیب فرمائے۔ امیرِاہلسنت مولانا محمد الیاس عطاؔرقادری دَامَت بَرَکاتُہمُ العالیہ کا بہت پیارا رسالہ ہے: انمول ہیرے۔ اسے پڑھیے! اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! وقت کی قَدر کا ذہن بنے گا۔ اس رسالے میں جدول بنانے کا طریقہ بھی لکھا ہوا ہے۔
اب تو الحمد للہ! ماہِ رمضان ہے، گنے چُنے دِن ہیں، گنتی کا تھوڑا سا وقت ہے، پِھر پُورا سال یہ برکتیں نہیں مل سکیں گی، اگلے سال نہ جانے ہم ہوں یا نہ ہوں، ابھی ماہِ رمضان نصیب ہے، اس کی قدر کر لینی چاہیے۔ ایک مہینا ہے؛ غفلت کی چادر اُتار کر، خُوب چستی کے ساتھ اس مہینے میں عبادات کر لیں، اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! سارا سال اس کا فیضان ملتا