Kamil Momin ki 2 Nishaniyan

Book Name:Kamil Momin ki 2 Nishaniyan

فَاِذَا فَرَغْتَ فَانْصَبْۙ(۷) (پارہ:30، سورۂ اَلَم نَشْرَح:7)

تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان: تو جب تم فارِغ ہو تو خوب کوشش کرو۔

یعنی اپنے فارغ وقت کو عبادت میں صرف کر!مطلب یہ کہ جب ایک عبادت سے فارغ ہو دوسری شروع کر اور کسی وقت عبادت سے خالی نہ رہ کہ عالَم کو پیدا کرنے کا مقصدِ اصلی یہی ہے۔ ([1])

زندگی آمد برائے بندگی                     زندگی بے بندگی شرمندگی

وضاحت: زندگی عبادت کے لیے ہے، یہ نہ ہو تو زندگی زندگی نہیں بلکہ شرمندگی ہو جاتی ہے۔

سونے کا وقت نہیں ملتا

ایک مرتبہ حضرت مُعاوِیہ بن خَدِیج  رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ  مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت فاروقِ اعظم  رَضِیَ اللہ عنہ  کی بارگاہ میں حاضر ہوئے، حضرت فاروقِ اعظم  رضی اللہ عنہا س وقت مسجد میں لیٹے ہوئے تھے، یہ دیکھ کر حضرت مُعاوِیہ بن خَدِیج  رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے کہا کہ اَمِیرُ الْمُؤمِنِین سو رہے ہیں...!!

حضرت فاروقِ اعظم  رَضِیَ اللہ عنہ نے یہ سُنا تو فورًا اُٹھ گئے، فرمایا: مُعاوِیہ تم نے ابھی کیا کہا؟ عرض کیا: میں نے کہا: اَمِیرُ الْمُؤمِنِین سو رہے ہیں۔ فرمایا: مُعَاوِیَہ! میں دِن کو سو جاؤں تو رِعایا کو برباد کر دُوں گا۔ رات کو سو جاؤں تو اپنے آپ کو برباد کر لُوں گا (یعنی اللہ پاک کی عبادت سے محروم رہ جاؤں گا)۔ جب یہ صُورت ہے تو بھلا میں کیسے سو سکتا ہوں؟ ([2])


 

 



[1]...انوارِ جمال مصطفےٰ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ، صفحہ:323 بتغیر قلیل ۔

[2]...الزہد لابن حنبل، زہد عمر بن الخطاب، صفحہ:162، رقم:646 خلاصۃً۔