Kamil Momin ki 2 Nishaniyan

Book Name:Kamil Momin ki 2 Nishaniyan

کرتے رہتے ہیں، کرتے رہتے ہیں، کئی کئی گھنٹے ان فضولیات کی نذر ہو جاتے ہیں*راتیں گزر جاتی ہیں*نیند پُوری نہیں ہوتی*طبیعت خراب ہوتی ہے *کرنے کے کام اَدھورے رہ جاتے ہیں۔ آہ! افسوس!

زمانے کے انداز بدلے گئے              نیا راگ ہے، ساز بدلے گئے

حقیقت خُرافات میں کھو گئی              یہ اُمّت رِوایات میں کھو گئی

بجھی عشق کی آگ اندھیر ہے               مسلماں نہیں خاک کا ڈھیر ہے

وضاحت: زمانے کا انداز ہی بدل گیا، اب تو بولیاں ہی بدل گئیں، نئے نئے طَور طریقے اپنائے جا رہے ہیں، آہ! افسوس! حقیقت کی جگہ خُرافات نے لے لی ہے، آہ! یہ اُمّت اپنی اَصْل روایات کو بُھول بیٹھی ہے، ہاں! ہاں! عشق کی آگ بجھ گئی، اندھیرا چھا گیا، مسلمان جو قُوّتِ عشق سے بلند و بالا تھے، خاک کا ڈھیر بن کر رہ گئے ہیں۔

مؤمن کبھی فارغ نہیں رہتا

 پیارے اسلامی بھائیو! یقین مانیے! فضولیات میں پڑنا، وقت برباد کرنا مسلمان کی شان کے خِلاف ہے۔ ایک سچّے مسلمان کی زندگی میں فَراغت نام کا کوئی لفظ نہیں ہے، ہمارے ہاں کہتے ہیں نا کہ فارِغ تھا تو دِل بہلانے کے لیے یہ کرنے لگا، یونہی ٹائم پاس کر رہا ہوں وغیرہ۔ یہ ایمان والوں کا انداز نہیں ہے، ایک مسلمان کبھی فارِغ رہ ہی نہیں سکتا، حضرت قاضی شُرَیح  رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ  نے 2اَفراد کو فضول کام کرتے ہوئے دیکھا، فرمایا: اَلْفَارِغُ مَا اُمِرَ بِھَذَایعنی فارغ شخص کو اس کام کا حکم نہیں دیا گیا، اللہ پاک فرماتا ہے: ([1])


 

 



[1]...تفسیرِ کبیر، پارہ:30، الم نشرح، زیرِ آیت:7، جلد:11، صفحہ:209۔