Book Name:Jannat Ke Baharain
زَبَرجَد اور یاقوت کی ہیں، ان کے پتّے (Leaves) اور پھل (Fruits) نیچے لٹکے ہوئے ہیں، کھانے والا اگر کھڑے ہو کر پھل لینا چاہے گا تو اسے مَشَقَّت نہ ہو گی، اگر بیٹھ کر لینا چاہے گا تو بھی تکلیف نہ ہو گی اور اگر لیٹے لیٹے لینا چاہے گا تو بھی اسے تکلیف نہیں ہو گی۔([1])
کیا جنّتی بھی کھائیں پئیں گے...؟
حضرت زید بن اَرْقَم رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ ایک غیر مسلم شخص پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کی خِدْمت میں حاضِر ہوا اور عرض کیا: اے ابوالقاسِم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! آپ کیا فرماتے ہیں کہ جنّتی کھائیں اور پئیں گے؟ فرمایا: ہاں! اس کی قسم جس کے قبضے (Possession) میں میری جان ہے! بےشک اَہْلِ جنّت کو کھانے پینے میں 100 مَردوں کے برابر طاقت (Power) دی جائے گی۔ یہ سُن کر اس غیر مسلم نے پوچھا: جو کھاتا، پیتا ہے، اسے تو حاجت پیش آتی ہے اور جنّت میں کوئی تکلیف نہیں ہے۔ رسولِ ذیشان، مکی مَدَنی سلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: جنّت میں قضائے حاجت بس اتنی ہی ہو گی کہ انہیں مشک (Musk) کی طرح کا خوشبودار پسینہ (Sweat) آئے گا (اور تمام کھانا ہضم ہو جائے گا)۔ ([2])
جنّتی کھانے کے ہر لقمےمیں جُدا لذّت ہو گی
روایات میں ہے: اللہ پاک فرشتوں کو فرمائے گا: میرے دوستوں (یعنی اَہْلِ جنّت) کو کھانا کھلاؤ! پس انہیں مختلف رنگوں (Colours) کے کھانے پیش کر دئیے جائیں گے۔