Book Name:Jannat Ke Baharain
رہنے والی ہے۔
پیارے اسلامی بھائیو! کیسا جھنجھوڑا گیا ہے ہمیں، دُنیا کے کام بھی ہوتے رہیں گے، آخرت جو ہمیشہ رہنے والی ہے، بہتر ہے، باقی ہے، اس کو ترجیح دو، جنّت کے کام کرو! دُنیا کے کام خُود ہی ہوتے رہیں گے۔
خیر! ہمیں اِس جنّت کے لیے للچانا چاہیے اور واقعی جنّت ایسی ہے کہ اس کے لیے آدمی للچائے۔ آئیے! ذرا جنّت کا حسین تذکرہ سنتے ہیں:
صحابئ رسول حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم نے بارگاہِ رسالت میں عرض کیا: يَا رَسُولَ اللَّهِ! مِمَّ خُلِقَ الْخَلْقُ؟ یارسول اللہ صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم ! مَخلُوق کس چیز سے بنائی گئی ہے؟ فرمایا: پانی سے۔ ہم نے عرض کیا: ہمیں جنّت کی عمارت کے مُتعلِّق خبر دیجیے! فرمایا: *جنّت کی ایک اینٹ سونے (Gold) کی *ایک چاندی (Silver) کی ہے *اس کا مِلَاط (یعنی اینٹوں کو جوڑنے کے لیے استعمال ہونے والی چیز) خوشبودار مشک ہے *اس کی کنکریاں موتیوں (Pearls) اور یاقوت (Rubies) کی ہیں *اس کی مٹی زعفران کی ہے *جو جنّت میں داخِل ہو گا وہ خوش رہے گا، کبھی مایوس نہ ہو گا *جنّت میں ہمیشہ رہے گا، اسے کبھی موت نہیں آئے گی *اس کے کپڑے پرانے نہیں ہوں گے *اور اس کی جوانی کبھی ختم نہیں ہو گی۔([1])
حضرت مُجاہد رحمۃُ اللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں: جنّتی درختوں کے تنے سونے کے ہیں، ان کی ٹہنیاں