Jannat Ke Baharain

Book Name:Jannat Ke Baharain

فورًا لڑتے ہوئے شہید ہوئے اور جنّت کی طرف بڑھ گئے۔

ہماری حالت اِس کے اُلٹ ہے، ہم دُنیا کے کام آج اور ابھی کرتے ہیں، جنّت میں لے جانے والے کاموں کو کل کے لیے  ٹال دیتے ہیں۔ مثلاً *کمانا آج اور ابھی ہے *امیر ہونے کے لیے  دِل کرتا ہے کہ کسی طرح چھت کھلے اور آسمان سے نوٹ برس پڑیں مگر جب جنّت کی بات آتی ہے، نمازوں کی بات آتی ہے، نیک کاموں کی بات آتی ہے، پِھر کہتے ہیں: کل سے شروع کر دُوں گا، اگلے جمعے سے شروع کر دُوں گا، چلو ایک مرتبہ جُمُعہ  کی پابندی تو شروع کرتا ہوں، پِھر آہستہ آہستہ باقی نمازیں بھی پڑھنے لگ جاؤں گا۔ بعض تو  نیک بننے کے لیے  بڑھاپے کا انتظار کرتے رہتے ہیں اور کتنے ایسے بھی ہیں جو سارا سال کہتے رہتے ہیں؛ رمضان کریم سے نمازیں شروع کروں گا مگر رمضان کریم  آتے ہی اور کاموں میں مَصْرُوف ہو جاتے ہیں۔

غرض؛ یہ ہمارا ایک عمومی رویہ ہے، ہم دُنیا کے کام پہلے اور آخرت کے کام بعد میں رکھتے ہیں۔ اللہ پاک قرآنِ کریم میں فرماتا ہے:

بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَیٰوةَ الدُّنْیَا٘ۖ(۱۶) (پارہ:30، سورۂ اعلیٰ:16)

تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:بلکہ تم دنیاوی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔

یعنی ہاں! ہاں! یہ تم ہو، نیکیوں میں آگے نہیں بڑھ پاتے، اللہ پاک کا ذِکْر نہیں کرتے، نصیحت حاصِل نہیں کرتے، کیوں؟ اس لیے  کہ تم دُنیا کی عارضی اور فانی زندگی کو ترجیح دیتے ہو جبکہ

وَ الْاٰخِرَةُ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰىؕ(۱۷) (پارہ:30، سورۂ اعلیٰ:17)

تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اور آخرت بہتر اور باقی