Book Name:Jannat Ke Baharain
روایت ہے: کسی غزوے کا موقع تھا، پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے صحابۂ کرام رَضِیَ اللہ عنہ م کو جنّت کا شوق دِلاتے ہوئے فرمایا:
وَ سَارِعُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا السَّمٰوٰتُ وَ الْاَرْضُۙ- (پارہ:4، سورۂ ال عمران:133)
تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اور اپنے ربّ کی بخشش اور اس جنّت کی طرف دوڑوجس کی وسعت آسمانوں اور زمین کے برابر ہے۔
اس وقت اِبْنِ قَسْحَم نامی ایک اَنْصاری صحابی رَضِیَ اللہ عنہ موجود تھے، وہ یہ آیت سُن کر جھوم گئے اور وارفتگی میں کہا: واہ واہ...!! کیا بات ہے۔ مَحْبُوب صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے پوچھا: تم نے واہ واہ...!! کیوں کہا؟ عرض کیا: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! اگر میں جنّت میں داخِل ہو پاؤں تو کیا جنّت میرے لیے وسیع ہو جائے گی؟ فرمایا: ہاں بالکل۔ عرض کیا: میرے اور جنّت میں کتنا فاصلہ ہے؟ فرمایا: بس یہی کہ دُشمن کے سامنے پہنچو! اور (عملی طور پر راہِ خُدا میں لڑ کر) اللہ پاک کے ایک ہونے کی گواہی دو۔
ان صحابی رَضِیَ اللہ عنہ کے ہاتھ میں اس وقت کھجوریں (Dates)تھیں، وہ کھانا بھی گوارا نہیں کیا، یونہی کھجوریں ایک طرف ڈالیں اور کہا: اے دُنیا کے کھانے دُور ہو...!! یہ کہہ کر دُشمن کے سامنے گئے اور لڑتے لڑتے شہید ہو گئے۔([1])
سُبْحٰنَ اللہ!پیارے اسلامی بھائیو! کیا شان ہے صحابئ رسول کی، جنّت میں جانے کا اتنا شوق ہوا کہ ہاتھ میں موجود کھجوریں بھی کھانا گوارا نہ کیا، اتنی سی دَیر بھی برداشت نہ ہوئی،