Jannat Ke Baharain

Book Name:Jannat Ke Baharain

اللہ عَلَیْہ  لکھتے ہیں:اس ساعت کے مُتَعَلِّق  عُلَماء کے 40قَول ہیں ، جن میں 2قَول زِیادہ قوی ہیں (1): 2خطبوں کے درمیان (2): سُورج ڈوبنے  سے پہلے کا وقت قبولیت کا ہے۔([1]) لہٰذا ان دونوں وقتوں ہی میں دُعا مانگ لیجیے! اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! جو دُعا مانگیں گے، پُوری ہو گی۔

یاد رکھیے! مقتدیوں نے خطبوں کے دوران دُعا دل ہی دل میں مانگنی ہے ہاتھ نہیں اُٹھانے۔([2])

(2):اس کے لیے للچائیں للچانے والے

پیارے اسلامی بھائیو!  اس روایت سے دوسری بات یہ سیکھنے کو  ملی کہ ہمارا دل جنتی نعمتوں کے بارے میں للچاناچاہیے۔ہم انسان ہیں نا، ہمارے دِل للچاتے ہیں *بڑی گاڑی دیکھ کر دل للچاتا ہے *بڑا گھر، کوٹھی، بنگلہ دیکھ کر دِل للچاتا ہے *مال و دولت کی کثرت، کسی کا لگژری لائف سٹائل (Luxury lifestyle)دیکھ کر  مُنہ میں پانی آجاتا ہے *بڑے عہدے کے لیے دل للچاتا ہے *عزّت و شہرت کے لیے  دِل للچاتا ہے  اور پتا نہیں کیا کیا دیکھ کر دِل میں ٹیس اٹھتی ہے، تڑپ پیدا ہوتی ہے۔

دِل للچانا چاہیے مگر ان دُنیاوی، فانی، عارضی چیزوں کے لیے  نہیں بلکہ جنّت کے لیے  للچانا چاہیے۔ اللہ پاک نے قرآنِ کریم میں جنّت کا ذِکْر فرمایا، جنتیوں کو ملنے والے انعامات کا ذِکْر کیا، اس کے بعد فرمایا:

وَ فِیْ ذٰلِكَ فَلْیَتَنَافَسِ الْمُتَنَافِسُوْنَؕ(۲۶) (پارہ:30، سورۂ مُطَفِّفِین:26)

تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اور للچانے والوں کو تواسی پر للچانا چاہیے۔


 

 



[1]...مراۃ المناجیح، جلد:2، صفحہ:319 بتغیر قلیل۔

[2]...مختصر فتاویٰ اہلسنت (قسط:1)، صفحہ:73۔