Book Name:Jannat Ke Baharain
شہدا اور نیک بندے سونے کے منبروں پر بیٹھا کریں گے۔ سب یہاں جمع ہو کر اللہ پاک کی حمد و ثنا کیا کریں گے، اللہ پاک ان سے فرمائے گا: سَلُوْنِی مجھ سے مانگو! بندےعرض کریں گے: مولیٰ! ہم تیری رضا چاہتے ہیں۔ اللہ پاک فرمائے گا:
قَدْ رَضِيتُ عَنْكُمْ رِضَاءً اَحَلَّكُمْ دَارِی وَاَنَالَكُمْ كَرَامَتِی
ترجمہ: میں تم سے ایسا راضی ہو گیا ہوں کہ اپنی رضا کے سبب تمہیں اپنے گھر میں جگہ دی اور تمہیں اپنی (جناب سے)کرامت (عزت و بزرگی) عطا کی۔
اِس کے بعد اللہ پاک اُن پر تجلی فرمائے گا، لوگ اپنے ربّ کا دیدار کریں گے۔ پس اَہْلِ جنّت کے نزدیک جُمُعہ سے بڑھ کر پسندیدہ کوئی دِن نہیں ہو گا۔([1])
پیارے اسلامی بھائیو! اس ایمان افروز روایت میں 2سیکھنے کی باتیں ہیں:
(1):جُمُعہ غریبوں کا حج ہے
پہلے نمبر پر تَو اس میں جُمُعہ کی فضیلت ہے کہ جُمُعہ کا دِن اس اُمّت کے لیے خاص تحفہ ہے*جُمُعہ یومِ عید ہے * جُمُعہ سب دنوں کا سردار ہے* جُمُعہ کے دِن جہنّم کی آگ نہیں سُلگائی جاتی*جُمُعہ کی رات دوزخ کے دروازے نہیں کھلتے * فرشتےجُمُعہ کو یَوْمُ الْمَزِیْد (یعنی زیادہ عنایات کا دِن) کہتے ہیں*حدیثِ پاک میں ہے: اَلْجُمُعَةُ حَجُّ الْمَسَاكِينِ یعنی جُمُعہ مسکینوں کا حج ہے۔([2])
پیارے اسلامی بھائیو! جُمُعہ تو عام دِنوں میں بھی سردار ہے، اب تو پِھر اَلحمدُ للہ! ماہِ