Book Name:Jannat Ke Baharain
اے عاشقان ِ رسول! اچھّی اچھّی نیّتوں سے عمل کا ثواب بڑھ جاتا ہے۔ آئیے! بیان سننے سے پہلے کچھ اچھّی اچھّی نیّتیں کر لیتے ہیں، نیت کیجیے!*رضائے الٰہی کے لیے بیان سُنوں گا*بااَدَب بیٹھوں گا* خوب تَوَجُّہ سے بیان سُنوں گا*جو سُنوں گا، اُسے یاد رکھنے، خُود عمل کرنے اور دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کروں گا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
صحابئ رسول، خادِمِ مصطفےٰ حضرت انس بن مالِک رَضِیَ اللہ عنہ سے روایت ہے، ایک مرتبہ حضرت جبرائیل امین علیہ السَّلام بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہوئے، اُن کے پاس بہت چمکدار آئینہ (Shiny mirror)تھا، جس کے اندر ایک چھوٹا سا سیاہ نکتہ لگا ہوا تھا۔ پیارے آقا، مکی مدنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: جبرائیل! یہ چمکدار آئینہ کیا ہے؟ عرض کیا: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! یہ یومِ جُمُعہ (کی مثال) ہے اور یہ جو سیاہ نکتہ ہے، یہ وہ ساعتِ جُمُعہ (یعنی جُمُعہ کی گھڑی) ہے، جس کے ذریعے آپ کو اور آپ کی اُمّت کو پہلی اُمّتوں پر فضیلت بخشی گئی ہے۔ یہ وہ ساعت ہے کہ اس وقت مسلمان اللہ پاک سے جو بھی بھلائی مانگے، اللہ پاک عطا فرماتا ہے، جس بھی بُرائی سے پناہ چاہے، اللہ پاک اسے پناہ بخش دیتا ہے۔
حضرت جبرائیل علیہ السَّلام نے مزید عرض کیا: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ! جُمُعہ کے دِن کو ہم فرشتے یَوْمُ الْمَزِیْد کہتے ہیں۔ پوچھا: یَوْمُ الْمَزِیْد کیا ہے؟ عرض کیا: جنّتُ الْفِرْدوس میں ایک وادِی ہے، جُمُعہ کے دِن یہاں نور اور سونے کے منبر لگائے جایا کریں گے، انبیائے کرام علیہم السَّلام اِن نور کے منبروں پر تشریف فرما ہوا کریں گے، صِدِّیقین،