Book Name:Jannat Ke Baharain
گی، وحشت و تنہائی ہو گی مگر تم نے اپنے اعمال کا برتن نیکیوں سے بھرا ہو گا تو دُنیا سے واپس جاتے ہوئے ڈرنا نہیں پڑے گا۔
(4): چوتھا نیک عمل جو جنّت میں لے جائے گا، وہ ہے: دُعاؤں کی کثرت۔([1]) حضرت انس رَضِیَ اللہ عنہ سے روایت ہے، محبوبِ ذیشان، مکی مدنی سلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: جو اللہ پاک سے 3مرتبہ جنّت مانگے، جنّت خُود کہتی ہے: اے اللہ پاک! اسے جنّت میں داخِل فرما دے۔([2])
سُبْحٰنَ اللہ!اَلحمدُ للہ! ماہِ رمضان ہے، ویسے بھی دُعاؤں کا مہینا ہے، خوب دُعائیں کیجیے! اللہ پاک سے بخشش مانگئے، جنّت مانگئے، جنت میں آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کا پڑوس مانگئے، اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! رحمتِ اِلٰہی نصیب ہو گی۔ اللہ پاک نے چاہا تو شفاعتِ مصطفےٰ کے صدقے جنّت ٹھکانا بن جائے گا۔
(5): جنّت میں لے جانے والا پانچواں کام ہے: نیک لوگوں کی محبّت۔([3]) حدیثِ پاک میں ہے: اَلْمَرْءُ مَعْ مَنْ اَحَبَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ آدمی روزِ قیامت اسی کے ساتھ ہو گا، جس سے محبّت کرتا ہو گا۔([4])