Jannat Ke Baharain

Book Name:Jannat Ke Baharain

کوشش رکھے، کیا خبر! وہی ایک مختصر سی نیکی جنّت میں داخلے کا سبب بن جائے۔

خالی ہاتھ جنّت میں کیسے جاؤں گا

منقول ہے: ایک مرتبہ حضرت ابراہیم بن ادھم رحمۃُ اللہ عَلَیْہ   حمّام میں جانے لگے تو حمّام کے مالِک نے آپ کو روک دیا اور کہا: آپ پیسے دئیے بغیر اندر نہیں جا سکتے۔ یہ سُن کر آپ رونے لگے اور فرمایا: میں یہاں حمّام میں خالی ہاتھ نہیں جا سکتا تو آہ...!! نبیوں اور صدِّیقوں کے گھر (یعنی جنّت میں) خالی ہاتھ کیسے داخِل ہو پاؤں گا...؟([1])

اللہ اکبر! پیارے اسلامی بھائیو! واقعی بات تو سوچنے کی ہے، ہمارے یہاں تفریح گاہوں میں، جہاں ناچ گانے ہوتے ہیں، طرح طرح کے گُنَاہ ہو رہے ہوتے ہیں، ایسی جگہوں پر جانے کے لیے  بھی ٹکٹ ہوتی ہے، پیسے لگتے ہیں، خالی ہاتھ وہاں بھی نہیں جا سکتے تو سوچئے! جنّت میں خالی ہاتھ کیسے جا پائیں گے۔ اس لیے  ہمیں اپنے ہاتھ بھرے رکھنے چاہئیں، پیسوں سے نہیں، نیکیوں سے۔ ایک نیکی  کا موقع ملے، ایک کر لیں، چار کا موقع ملا،چار کر لیں، بَس ایک ایک نیکی کرتے اپنے پاس نیکیوں کا انبار لگارتے رہیں۔ میاں محمد بخش رحمۃُ اللہ عَلَیْہ   اشاروں  کی صُورت میں ہمیں سمجھاتے ہوئے فرماتے ہیں:

لَوئے لَوئے بَھْر لَے کُڑْئیے جَے تُدْھ بَھَانْڈَا بَھْرْنَا

شَامْ پَئْی بَنْ شَامْ مُحَمَّدْ، گَھْر جَانْدِی نِیْں ڈَرْنا

وضاحت: اے شخص!اپنے اعمال کے برتن کو جتنا  نیکیوں سے بھرنا  چاہتے  ہو ، آہستہ آہستہ بھرتے رہو، نیکیاں کرتے رہو...!! شام ہو گی یعنی موت آگئی ، جنگل ہو گا، اندھیری قبر ہو


 

 



[1]...میں سدھرنا چاہتا ہوں، صفحہ:17و 18 خلاصۃً۔