Jannat Ke Baharain

Book Name:Jannat Ke Baharain

میری جان ہے! جنتیوں کو جو کچھ عطا کیا جائے گا، اس میں سب سے زیادہ محبوب نعمت انہیں رَبِّ کریم کا دیدار ہو گی۔ ([1])

جنت کا حقدار بننے کے لیے  

پیارے اسلامی بھائیو! یہ جنّت ہے، ہمیں چاہئے کہ اس جنّت کے لیے  للچائیں، اس کی طرف بڑھنے کی کوشش کریں۔ عُلَمائے کرام فرماتے ہیں: 5 کام ہیں، بندہ اگر ان پر استقامت اِخْتیار کر لے تو اِنْ شَآءَ اللہ الْکَرِیْم! جنّت میں داخِل ہو جائے گا:

(1): ہر طرح کے گُنَاہوں سے بچے ۔ اللہ پاک فرماتا ہے:

وَ نَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوٰىۙ(۴۰) فَاِنَّ الْجَنَّةَ هِیَ الْمَاْوٰىؕ(۴۱) (پارہ:30، سورۂ نازِعات:40-41)

تَرْجمۂ کَنْزُالعِرْفان:اور نفس کو خواہش سے روکا۔  تو بیشک جنّت  ہی (اس کا) ٹھکانہ ہے۔

 (2): دُنیا میں تھوڑے پر ہی راضِی رہ لے، زیادہ کی تمنّا نہ کرے۔ روایت ہے: اِنَّ ثَمَنَ الْجَنَّةِ تَرْكُ الدُّنْيَا یعنی دُنیا ترک کر دینا جنّت کی قیمت ہے۔

(3): نیکیوں کا حریص رہے۔([2]) کسی بھی نیکی کو چھوڑ نہ دے، ہر قسم کی نیکی کرتا ہی رہے، مثلاً *صدقہ دینے کا موقع ملا، صدقہ دے *جنازہ پڑھنے کا موقع ملا، جنازہ پڑھ لے *عِلْمِ دین سیکھ لے *نمازیں پڑھ لے *مسلمانوں سے مسکرا کر بات کرے، غرض؛ جس جس نیکی کا موقع میسر آتا جائے، بس کرتا ہی رہے۔ یہ نہ سوچے کہ یہ تو میرا کام نہیں ہے بلکہ ہر طرح کی نیکی میں کسی نہ کسی طرح اپنا حصّہ شامِل کرنے کی بھرپُور


 

 



[1]...مسلم، کتاب الایمان، باب اثبات رویۃ المؤمنین فی الآخرۃ...الخ، صفحہ:87، حدیث:181۔

[2]...تنبیہ الغافلین، باب صفۃ الجنۃ واہلھا، صفحہ:40۔