Book Name:Jannat Ke Baharain
ان کےچہرے آئینے کی طرح صاف شفاف (Clear and Transparent) ہوں گے)۔ ([1])
جنّتیوں کا حُسْن بڑھتا جائے گا
جنّت کی ایک اور بھی خاص بات ہے، اس دُنیا میں ہم جب سے آئے ہیں، ہماری عمر (Age) مسلسل بڑھ رہی ہے، ہم ہر ہر منٹ بلکہ ہر ہر سیکنڈ پُرانے ہو رہے ہیں، بڑھاپے (Old Age) کی طرف بڑھ رہے ہیں،جیسے جیسے عمر بڑھتی ہے، حُسن، جوانی، طاقت وقوت میں کمی آتی جاتی ہے،یعنی اس دُنیا میں ہم لمحہ لمحہ فنا کی طرف بڑھتے ہی چلے جاتے ہیں۔ میاں محمد بخش صاحب رحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے کیا خوب کہا تھا:
سَدَا نَہ بَاغِیْں بُلْبُلْ بَوْلِے، سَدَا نَہ بَاغْ بَہَارَاں
سَدَا نَہ مَاپِّے، حُسْن جَوَانی، سَدَا نَہ صُحْبَتْ یَارَاں
مفہوم: باغ میں بلبل کے چہچہے ہمیشہ نہیں رہتے، نہ باغ میں بہار (Spring) ہمیشہ رہتی ہے۔ اسی طرح ماں باپ، حُسْن، جوانی، طاقت و قوت اور دوستوں کی صحبت (Company) بھی ہمیشہ نہیں رہتی۔
یہ دُنیا کا دستور (Custom) ہے، یہاں ہر لمحہ فنا کی طرف لے جانے والا ہے مگر جنّت کا دستور نرالا ہو گا۔ صحابئ رسول حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اللہ پاک کے آخری رسول صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: مجھے اس ذات کی قسم! جس نے مُحَمَّد صلی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَسَلَّم پر قرآن نازِل فرمایا! دُنیا میں جس طرح لمحہ بہ لمحہ بڑھاپا آتا چلا جاتا ہے، ایسے ہی جنّت میں لمحہ بہ لمحہ حُسْن بڑھا کرے گا۔([2])