Book Name:Jannat Ke Baharain
جنتیوں کو اس کھانے کے ہر لقمے (Morsel) پر جُدا جُدا لذّت آئے گی۔ جب یہ کھانا کھا چکیں گے تو حکم ہو گا: میرے بندوں کو پانی پِلاؤ! اب مختلف قسم کے شربت پیش کئے جائیں گے، جن کے ہر گھونٹ پر علیحدہ علیحدہ مزہ آئے گا۔([1])
روایات میں ہے: جنّت میں ایک آدمی آرام سے لیٹا ہو گا، اپنے ہونٹ ہِلائے بغیر دِل ہی دِل میں سوچے گا کہ اگر اجازت (Permission) ملے تو میں جنّت میں کھیتی باڑی (Farming) کروں۔ ابھی یہ دِل میں سوچ ہی رہا ہو گا کہ فرشتے اپنی مٹھیاں بند کئےاس کے پاس پہنچیں گے، سلام کریں گے، یہ فرشتوں کو دیکھ کر کھڑا ہو جائے گا، فرشتے کہیں گے: تم نے دِل میں تمنّا کی، لہٰذا ہم بیج لے کر آئے ہیں۔ وہ بندہ بیج (Seeds) لے کر انہیں زمین میں بَو دے گا، (جنّت میں چونکہ مشقت تو ہے نہیں، لہٰذا یہ بیج ڈالے گا تو) اسی وقت پہاڑوں (Mountains) جتنی اونچی اونچی فصل (Crop) اُگ جائے گی۔([2])
پیارے اسلامی بھائیو! ہم نے روایت سُنی، جنّت میں آدمی کو کھیتی باڑی کی خواہش ہو گی، اس جگہ مَشْہُور مُفَسِّرِ قرآن، مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃُ اللہ عَلَیْہ نے ایک ایمان افروز نکتہ بیان فرمایا ہے، آپ لکھتے ہیں: لوگ جس حال میں جئیں گے، اسی حال میں مریں گے اور جس حال میں مریں گے، اسی حال میں قیامت کے دِن اٹھیں گے۔یہ شخص جو جنّت