Barkaat e Zakat

Book Name:Barkaat e Zakat

اَہَمِّیَّت  زکوٰۃ 

 پیارے اسلامی بھائیو! کوئی بھی ملک خواہ مَعَاشِی طَور پر کتنا ہی تَرَقّی یَافتہ کیوں نہ ہو، لیکن اُس میں لوگوں کاایک ایسا طبقہ ضرور ہوتا ہے جومختلف وُجُوہات کے باعث غُربت و اَفْلَاس کا شِکار ہوتا ہے ۔ ایسے لوگوں کی کَفَالَت کی ذِمّہ داری اللہ پاک نے  صاحبِ حَیْثِیَّتافراد کے سِپُرد(ذمہ) کی ہے ۔ چنانچہ اللہپاک نے مالداروں پر زکوٰۃ فرض کی تاکہ وہ  اپنی زکوٰۃ کے ذریعے مُعَاشرے کے کمزور اور نادار طبقے کی مدد کریں اوردولت چند لوگوں کی مُٹھیوں میں قید ہونے کے بجائے مَفْلُوْکُ الْحَال (خستہ حالت) افراد تک بھی پہنچتی رہے اور یوں مُعَاشرے میں مَعَاشِی توازُن کی فَضا قَائم رہے ۔ یاد رہے کہ اگر اللہپاک چاہتا تو سب کو دولت مند بنادیتا اور کوئی شخص غریب نہ ہوتا، لیکن اُس نے اپنی مَشِیَّت سے کسی کو اَمِیر بنایا تو کسی کو غریب تاکہ اَمِیر کو اس کی دولت اور غریب کو اس کی غُربت کے سبب آزمائے ۔ چنانچہ پارہ8،سُوۡرَۃُ الۡاَنۡعَام،آیت نمبر165 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے :

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَكُمْ خَلٰٓىٕفَ الْاَرْضِ وَ رَفَعَ بَعْضَكُمْ فَوْقَ بَعْضٍ دَرَجٰتٍ لِّیَبْلُوَكُمْ فِیْ مَاۤ اٰتٰىكُمْؕ

 ۸، الانعام:۱۶۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور وہی ہے جس نے زمین میں تمہیں نائب بنایا اور تم میں ایک کو دوسرے پر کئی درجے بلندی عطا فرمائی تاکہ وہ تمہیں اس چیز میں آزمائے جو اس نے تمہیں عطا فرمائی ہے ۔

یعنی آزمائش میں ڈالے کہ تم نعمت و جاہ و مال پا کر کیسے شکر گزار رہتے ہو اور باہم ایک دوسرے کے ساتھ کس قسم کے سلوک کرتے ہو۔  (خزائن العرفان، پ۸، الانعام، تحت الآیۃ:۱۶۵)

معلوم ہوا کہ دُنیا دارُ الامتحان (یعنی آزمائش کا گھر )ہے،لہٰذا ہمیں  چاہئے کہ ہرحکمِ  خداوندی کو اپنے لئے سَعَادَت سمجھتے ہوئے خوش دِلی سے ادا کریں اور اپنی آخرت کے لئے اَجْرو ثَوَاب کا ذَخِیْرَہ اِکٹھا کریں ۔ پھر زکوٰۃ تو ایک ایسی عبادت ہے،جس میں ہمارے لئے دُنیا وآخرت کے ڈھیروں فوائد اور فضائل