Barkaat e Zakat

Book Name:Barkaat e Zakat

پیارے اسلامی بھائیو!  آپ نے سُناکہ دُنْیَوِی مال کی مَحَبَّت میں زکوٰۃ دینے سے انکار کرنے اور اللہ پاک کے رسول سے دُشمنی مول لینے والے بدبَخْت قارُون کا اَنجام کیسا بھَیَانک(خوف ناک) ہوا ، نہ اُسے مال کام آیا نہ اس کے خزانے،بلکہ وہ اپنے خزانوں سمیت ہی عذاب کی لپیٹ میں آگیا۔ سُوْرَةُالْـقَصَص  میں بیان کردہ اس واقعے سے  جہاں مالِ دُنیا سے مَحَبَّت کا بھیانک اَنجام پتہ چلتا ہے، وہیں   زکوٰۃ کی اَہَمِّیَّت بھی  بَخُوبِی واضِح ہورہی ہے ۔

فرضیّتِ زکوٰۃ 

 یاد رہے کہ اُمّتِ مُحمدیہ پر بھی زکوٰۃ کی ادائیگی فرض کی گئی ہے ۔چنانچہ پارہ1،سُوۡرَۃُ الۡبَقَرَہ،آیت نمبر43 میں اِرشادِ باری تعالیٰ ہے :

وَ اَقِیْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ ۱، البقرۃ:۴۳)

ترجمۂ کنزالعرفان:اور نماز قائم رکھو اور زکوٰۃ ادا کرو ۔

    صَدْرُ الْافَاضِل حضرتِ علّامہ مولانا مُفتیسَیِّد محمد نَعیمُ الدّین مُرادآبادی  رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ  خزائن العرفان میں اس آیت کے تحت لکھتے ہیں: اس آیت میں نمازو زکوٰۃ کی فَرضِیَّت کا بیان ہے ۔

پیارے اسلامی بھائیو! زکوٰۃ ارکانِ اسلام میں سے ایک رُکن ہے ۔اللہ پاک کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عظمت نشان ہے : اسلام کی بُنیاد پانچ(5) باتوں پر ہے ،اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ پاک کے سِوا کوئی معبود نہیں اور محمد(صَلَّی اللہُ  عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ)اُس کے رسول ہیں ، نماز قائم کرنا،زکوٰۃ ادا کرنا ، حج کرنا اوررمضان کے روزے رکھنا۔([1])

    زکوٰۃ کی اَہَمِّیَّت  کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہےکہ قُرآنِ مجید، فُرقانِ حَمید میں نماز اور زکوٰۃ کا ایک ساتھ 32مرتبہ ذکر آیا ہے۔(ردالمحتار،کتاب الزکوٰۃ، ج۳، ص۲۰۲)


 

 



[1] بخاری ،کتاب الایمان ،باب دعا ء کم ایمانکم ،۱/۱۴،حدیث۸