Book Name:Barkaat e Zakat
ہے۔ ([1]) اے عاشقانِ رسول! ہر کام سے پہلے اچھی اچھی نیتیں کرنے کی عادت بنائیے کہ اچھی نیت بندے کو جنت میں داخِل کر دیتی ہے۔ بیان سننے سے پہلے بھی اچھی اچھی نیتیں کر لیجئے! مثلاً نیت کیجئے! *عِلْم سیکھنے کے لئے پورا بیان سُنوں گا * با اَدب بیٹھوں گا *دورانِ بیان سُستی سے بچوں گا *اپنی اِصْلاح کے لئے بیان سُنوں گا *جو سُنوں گا دوسروں تک پہنچانے کی کوشش کروں گا۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ عَلٰی مُحَمَّد
قَارُون،حضرت مُوسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کےچچا یَصْہَرْکا بیٹا تھا ۔اللہ پاک نے اُس کو بے پناہ دولت سے نَوَازا تھا، حتّٰی کہ اُس کے خزانوں کی چابیاں ایسے چالیس(40) افراد اُٹھاتے تھے، جو عام مردوں سےزیادہ طاقتور تھے ۔([2]) جیسا کہ پارہ20،سُوۡرَۃُ الۡقَصَصۡ،آیت نمبر76 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے ۔
وَ اٰتَیْنٰهُ مِنَ الْكُنُوْزِ مَاۤ اِنَّ مَفَاتِحَهٗ لَتَنُوْٓاُ بِالْعُصْبَةِ اُولِی الْقُوَّةِۗ (پ۲۰، القصص: ۷۶)
ترجمۂ کنزُالعِرفان:اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دئیے جن کی کنجیاں (اُٹھانا) ایک طاقتور جماعت پر بھاری تھیں ۔
جب اللہ پاک نے بَنِیْ اِسْرَائِیْل پر زکوٰۃ کا حکم نازِل فرمایا تو قَارُون، حضرتِ مُوْسیٰ عَلَیْہِ السَّلَام کے پاس آیا اور آپ سے یہ طَے کیا کہ ایک ہزار (1000) دِینار پر ایک دِینار، ہزار(1000)دِرہموں پر ایک درہم جبکہ ہزار(1000)بکریوں پر ایک بکری اور اسی طرح دیگر چیزوں میں سے بھی ہزارواں حِصّہ زکوٰۃ دے گا۔چنانچہ جب اُس نے گھر جا کر اپنے مال کی زکوٰۃ کاحِسَاب کیا تو وہ بہت زیادہ مال بن رہا تھا، اُس کے نفس نے اتنا ڈھیر سارا مال دینے کی ہِمّت نہ کی، لہٰذا اُس نے بَنِی اِسرائیل کو جمع کر کے کہا کہ تم نے مُوْسیٰ