Book Name:Barkaat e Zakat
پیارے اسلامی بھائیو! آپ نے سنا کہ صحابَۂ کِرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے دلوں میں زکوٰۃ اَدَا کرنے کا کتنا جذبہ تھا کہ وہ اللہ پاک کی راہ میں دینے کے لئے اپنا سب سے عُمدہ(اچھا)مال پیش کرتے اور اسے اپنے لئے باعثِ سَعَادَت سمجھتے ۔ مگر اَفسوس! ایک ہم ہیں کہ خوش دِلی سے زکوٰۃ ادا کرنا تو دُور کی بات ، ہماری بَہُت بڑی تعداد سِرِے سے زکوٰۃ اَدَا ہی نہیں کرتی ۔ یاد رکھئے!قُرآنِ مجید، فُرقانِ حَمید میں پارہ10،سُوْرَۃُ التَّوۡبَہ،آیت نمبر34میں زکوٰۃ ادا نہ کرنے والوں کے بارے میں سَخت وَعِیْد آئی ہے ، چنانچہ اِرشادِ خُداوَندی ہے:
E6p"6òÏ"Suo?>"6
وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِۙ-فَبَشِّرْهُمْ بِعَذَابٍ اَلِیْمٍۙ(۳۴)
(پ۱۰، التوبة:۳۴)
ترجمہ کنزُالعِرفان:اور وہ لوگ جو سونا اور چاندی جمع کررکھتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے انہیں دردناک عذاب کی خوشخبری سناؤ ۔
زکوٰۃ نہ دینے والوں کے بارےمیں وعیدوں پر مشتمل دو فرامِیْنِ مُصطفٰے صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ سَمَاعَتْ کیجئے:
1۔دوزخ میں سب سے پہلے تین(3) شخص جائیں گے، اُن میں ایک وہ مالداربھی ہے جو اپنے مال میں اللہ پاک کا حق (زکوٰۃ) اَدَا نہیں کرتا۔([1])
2۔جو شخص سونے چاندی کا مالک ہو اور اُس کا حَق (یعنی زکوٰۃ)ادا نہ کرے تو قِیامت کے دن اُس کے لیے آگ کی سِلیں بچھائی جائیں گی جنہیں جہنّم کی آگ میں تَپایا(گرم کیا)جائے گا اور اُن سے اُس کی کَروَٹ ، پیشانی اور پیٹھ داغِی جائے گی، جب بھی وہ ٹھنڈی ہونے پر آئیں گی،دوبارہ ویسی ہی کر دی جائیں گی۔(یہ مُعَامَلَہ جاری رہے گا)اُس دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار(50,000) برس ہے، یہاں تک کہ بندوں کے درمیان فیصلہ ہوجائے، اب وہ اپنی راہ دیکھے گا، خواہ جنّت کی طرف جائے یا جہنّم