Book Name:Jannat Me Aqa Ka Parosi
جنت میں میرے ساتھ ایسے ہوگا۔ یہ ارشاد فرماتے ہوئے نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے اپنی چاروں انگلیوں کی طرف اشارہ فرمایا۔([1]) ایک روایت میں 2 بیٹیوں کا ذکر ہے کہ جس نے 2بچیوں کی پرورش کی، میں اور وہ جنت میں یوں ہوں گے۔ پھر نبی کریم صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے اپنی 2 مبارک انگلیوں کو ملا کر اشارہ فرمایا۔([2])
مفتی احمد یار خان رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں:عمومًا بیٹوں سے دنیاوی امیدیں وابستہ ہوتی ہیں کہ یہ جوان ہوکر ہماری خدمت کریں گے،ہمیں کما کر کھلائیں گے، لڑکیوں سے یہ امید نہیں ہوتی اس لئے لڑکیوں کا پالنا ان پر صبرکرنا ثواب ہے۔ لڑکیاں خواہ بیٹیاں ہوں خواہ بہنیں۔([3]) مزید ایک مقام پر فرماتے ہیں: خوش دلی سے 2لڑکیوں کو پال دینا خواہ اپنی بیٹیاں ہوں یا بہنیں ہوں یا یتیم بچیاں، قیامت میں قربِ مصطفےٰ کا ذریعہ ہے اور جسے اس دن حضور( صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم ) کا قُرب نصیب ہوجائے اسے سب کچھ مل جائے۔
پیارے اسلامی بھائیو! اَوْلاد عظیم نعمت ہے، اللہ پاک بیٹیاں عطا فرمائے، یہ بھی اس کی عطا ہے، بیٹے عطا فرمائے تو یہ بھی اسی کی دَیْن ہے۔ اس لئے اَوْلاد کی اچھی پرورش کا ذہن بنائیے بالخصوص بیٹی ہو تو اس کی پرورش خوب ذوق و شوق کے ساتھ کیجئے! عموماً لوگ بیٹوں کو بڑھاپے کا سہارا سمجھتے ہیں، یہ ایک اچھی اُمِّید ہے ورنہ بیٹا بڑا ہو کر باپ کا سہارا بنے گا یا نہیں...!! یہ نصیب کی بات ہے جبکہ بیٹی تَو یُوں سمجھ لیجئے کہ گویا جنّت کا ٹکٹ ہے۔ ہم اللہ