Book Name:Jannat Me Aqa Ka Parosi
بیان فرما کر یہ ترغیب بھی دِلا دی کہ جب مانگنا ہو تو وہ مانگا کرو جو بنی اسرائیل کی بڑھیا نے مانگا تھا بلکہ ایک روایت میں ہے، آپ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے فرمایا: اَعَجَزْتُمْ اَنْ تَکُوْنُوْا مِثْلَ عَجُوْزِ بَنِیْ اِسْرَائِیْل یعنی کیا تم یہ نہیں کر سکتے کہ بنی اسرائیل کی بُڑھیا جیسے ہو جاؤ! ([1])
یعنی جیسے بنی اسرائیل کی بڑھیا نے جنّت میں اپنے نبی حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلام کا پڑوس مانگا تھا، ایسے ہی جب مانگنے کا موقع ہو تو تم بھی جنّت میں اپنے آقا کا پڑوس مانگا کرو!
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہ عَلٰی مُحَمَّد
آقا کا پڑوسی بنانے والے اَعْمال
پیارے اسلامی بھائیو!شیخ عبد الحق محدث دہلوی رَحمۃُ اللہ عَلَیْہ فرماتے ہیں:جنّت میں آقا کا پڑوسی بننے کی صِرْف خواہش کافِی نہیں، بندے کو چاہئے کہ اس کے لئے وسیلہ بھی اپنائے یعنی افضل نیکیاں اور عبادات کر کے پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کا قُرْب بھی حاصِل کرے۔([2])حضرت رَبِیعَہ اسلمی رَضِیَ اللہ عنہ والی روایت پر غور کیجئے! آپ نے جنّت میں آقا کا پڑوس مانگا تو رسولِ ذیشان، مکی مَدَنی سلطان صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم نے انہیں کثرت سے سجدے کرنے کی تلقین فرمائی۔
(1):سجدوں کی کثرت
اس سے معلوم ہوا؛ کَثْرت سے سجدے کرنا جنّت میں آقا صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم کا پڑوس دِلانے والا عمل ہے۔
سُبْحٰنَ اللہ! کتنا آسان(Easy) عمل ہے...!! کَثْرت سے سجدے کرنے ہیں، ہم