Share this link via
Personality Websites!
طرف عربی قرآن کی وحی بھیجی تا کہ تم مرکزی شہر اور اس کے ارد گرد رہنے والوں کو ڈرسناؤ
پیارے اسلامی بھائیو! مَعْلُوم ہوا؛ قرآنِ کریم کو اُتارا ہی اِس لیے گیا ہے تاکہ اِس کے ذریعے سے دِلوں میں ڈر پیدا کیا جائے۔
اب ہم اِس آیتِ کریمہ کو سامنے رکھ کر ذرا غور کریں؛ *قرآنِ کریم کِتَابِ ہدایت ہے اور نازِل کیوں ہوا؟ دِلوں میں خوفِ خُدا بڑھانے کے لیے۔ مَعْلُوم ہوا؛ خوفِ خُدا ہدایت ملنے کا ذریعہ ہے *قرآنِ کریم کے ذریعے قوموں کو عُروج، ترقی اور بلندی ملتی ہے اور قرآنِ کریم نازِل کیوں ہوا؟دِلوں میں خوفِ خُدا بڑھانے کے لیے۔مَعْلُوم ہوا؛ خوفِ خُدا کی بَرَکت سے عُروج، ترقی اور بلندی ملتی ہے *قرآنِ کریم قُربِ اِلٰہی دِلانے والی کتاب ہے اور نازِل کیوں ہوئی؟ دِلوں میں خوفِ خُدا بڑھانے کے لیے۔ مَعْلُوم ہوا؛ خوفِ خُدا کی بَرَکت سے اللہ پاک کا قُرب ملتا ہے*اسی طرح غورکرتے چلے جائیے! *قرآنِ کریم میں اگلے پچھلوں کا عِلْم ہے*قرآنِ کریم نُور ہے*قرآنِ کریم اللہ پاک کی مضبوط رَسِّی ہے*قرآنِ کریم نجات ہے *قرآنِ کریم شَفاعت فرمانے والا ہے اور نازِل کیوں ہوا؟ دِلوں میں خوفِ خُدا بڑھانے کے لیے، لہٰذا مَعْلُوم ہوا کہ اگر ہم اپنے دِل میں اللہ پاک کا،روزِ قیامت اس کی بارگاہ میں حاضِری کا خوف بڑھا لیں تو اِس کی بَرَکت سے ہمیں عُروج بھی ملے گا، ترقی بھی ملے گی، دُنیا و آخرت میں نجات بھی نصیب ہو گی، حکمت بھی نصیب ہو گی اور اللہ پاک نے چاہا تو روزِ قیامت ہم شفاعت کے حق دار بھی بن جائیں گے۔
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami