Share this link via
Personality Websites!
*کبھی قیامت کے ہولناک مَنْظَر بیان کر رہا ہو، ایسے خوش نصیب اور حکمتِ عملی والے مُبَلِّغ کا شکریہ ادا کرنا چاہیے کہ اُس نے پہلے ہی سے ہمیں آگاہ کر دیا ہے۔
پیارے اسلامی بھائیو! کوئی ہمیں خوفِ خُدا والی باتیں بتائے تو اُس پر اعتراض کرنے کی بجائے، یہ کہنے کی بجائے کہ لَوْ جی! مولوِی تو بس ڈراتے ہی رہتے ہیں، ہمیں چاہیے کہ ہم ان کی بات کو سُنیں، دِل میں بٹھائیں اور دِل میں خوفِ خُدا بڑھانے والے بن جائیں۔
آپ قرآنِ کریم پڑھیے! جتنے انبیائے کرام علیہم السَّلام تشریف لائے، سبھی ڈر سُنانے کے لیے ہی تشریف لائے تھے، البتہ! جب انبیائے کرام علیہم السَّلام نے ڈر سُنایا تو سامنے لوگوں کی 2قسمیں ہو گئیں۔ میں قرآنِ کریم کی روشنی میں ان دونوں قسموں کا انجام مُخْتصَر طور پر بتاتا ہوں، یہ سُن کر ہم نے فیصلہ یہ کرنا ہے کہ ہم نے ڈر سُن کر اعتراض کرنے والوں میں ہونا ہے یا ڈر جانے والا بننا ہے؟
سنیے! *اللہ پاک کے نبی حضرت نُوح علیہ السّلام تشریف لائے، فرمایا:
اِنِّیْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌۙ(۱۰۷) فَاتَّقُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوْنِۚ(۱۰۸) (پارہ:19، سورۂ شعراء:107-108)
تَرْجَمَۂ کَنْزُالْعِرْفَان: بیشک میں تمہارے لیے ایک امانتدار رسول ہوں۔ تو اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
لوگوں کی 2قسمیں ہو گئیں: صِرْف 80 افراد اللہ پاک سے ڈر گئے، باقیوں نے اعتراضات کرنا شروع کر دئیے۔ پِھر سیلاب آیا، اللہ پاک نے اِس عالمگیر سیلاب میں 80 افراد کو بچا لیا، باقی سب کو غرق کر دیا
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami