Share this link via
Personality Websites!
ہو تو نسب میں ایک دوسرے پر فخر اوربڑائی کا اظہار کرنے کی کوئی وجہ نہیں، سب برابر ہو اور ایک جدِّ اعلیٰ کی اولاد ہو (اس لیے نسب کی وجہ سے ایک دوسرے پر فخر کا اظہار نہ کرو) اور ہم نے تمہیں مختلف قَوْمیں، قبیلے اور خاندان بنایا تا کہ تم آپس میں ایک دوسرے کی پہچان رکھو۔([1])
مَعْلُوم ہوا؛ ہمارا نسب، ہمارا خاندان، ہمارا قبیلہ اِس لیے نہیں ہے کہ ہم اپنے نسب اور خاندان پر فخر کرنا شروع کر دیں، نسلی تَعَصُّبْ میں مبتلا ہو کر دوسروں کو ستانا، بُرا سمجھنا، کم تَر جاننا شروع کر دیں، یہ خاندانوں کی تقسیم، قبیلوں کی تقسیم تو صِرْف پہچان کے لیے ہے ورنہ ہم سب ایک ہی والِد حضرت آدم علیہ السَّلام کی اَوْلاد ہیں۔
حدیثِ پاک میں ہے: ایک مرتبہ 2آدمی آپس میں ایک دوسرے پر فخر جَتا رہے تھے، ایک نے کہا: میں فُلاں کا بیٹا ہوں؟ فُلاں کی اَوْلاد ہوں؟ تم کون ہو؟
یعنی سامنے والے کے خاندان کو کم سمجھتے ہوئے کہا: تم کون ہوتے ہو، فُلاں کم رُتبہ خاندان سے...؟
پیارے آقا، مکی مَدَنی مصطفےٰ صَلَّی اللہ عَلَیْہِ وَ آلِہٖ وَ سَلَّم یہ مُعامَلہ دیکھ رہے تھے، فرمایا: حضرت موسیٰ علیہ السَّلام کے سامنے اسی طرح 2شخصوں نے اپنے خاندان پر فخر کیا تھا۔ ان میں سے ایک اپنے خاندان پر فخر کرتے ہوئے 9 پشتوں تک اپنا نسب گِن گیا۔ اللہ پاک نے وحی بھیجی، اے موسیٰ علیہ السَّلام ! اس شخص سے فرما دیجیے کہ 9 پشتیں جن پر فخر کر رہے ہو، وہ 9 کی 9 جہنّم میں ہیں، تم اُن کے ساتھ 10 وِیں بھی جہنمی ہو۔([2])
BOOK TOPIC
©Copyright 2026 by I.T. Department of Dawat-e-Islami